رائے درگ جامعہ نظامیہ وقففیوچر سٹی میں 12 تا 15 ایکڑ اراضی کے اقدامات تیز کرنے حکومت کی ہدایت
حیدرآباد۔28۔جون(سیاست نیوز) رائے درگ وقف اراضی معاملہ میں ریاستی حکومت اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں معاہدہ قطعیت پاچکا ہے اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا جو کہ اراضی پر اپنا دعویٰ پیش کرکے عدالت سے رجوع ہوا تھا اس اراضی کے متبادل اراضی حاصل کرنے آمادہ ہوچکا ہے ۔جامعہ نظامیہ وقف اراضی 'رائے درگ ' میں ہراج کے ذریعہ فروخت کی گئی تھی جو کہ جامعہ نظامیہ کے تحت وقف ہے اور اس فروخت کی گئی اراضی پر اسٹیٹ بینک نے اپنے مالکانہ حقوق کا دعویٰ کرکے تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی تھی جو زیر دوراں ہے۔ بینک کی جانب سے درخواست کے ادخا ل کے بعد حکومت اور بینک حکام کے درمیان اجلاس اور مشاورت کے بعد کہا جارہاہے کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے جس 5ایکڑ اراضی پر اپنا دعویٰ پیش کیا تھا اس اراضی کے بدلہ 'فیوچرسٹی ' میں 12 تا15ایکڑ اراضی کے حصول پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف سیکریٹری کے راما کرشنا راؤ' پرنسپل سیکریٹری محکمہ فینانس ' تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نائب صدرنشین و منیجنگ ڈائرکٹر کے ششانک' مسٹر جی ایس رانا ڈپٹی منیجنگ ڈائرکٹر ایس بی آئی ' چیف جنرل منیجر مسٹر نلیش دیویدی و اسسٹنٹ جنرل مینجر جی پووازاغی ' کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوئے اور 'جامعہ نظامیہ ' کی موقوفہ جائیداد کے عوض اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو حکومت تلنگانہ نے متباد ل اراضی فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اس پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک کے درمیان ان مذاکرات میں حکومت سے نہ وقف بورڈ کے عہدیداروں سے کوئی مشاورت کی گئی اور نہ محکمہ اقلیتی بہبود وقف بورڈ کے ادعا کو حکومت کے آگے پیش ہی کرپایا ۔ ۔ جامعہ نظامیہ کے ذمہ داروں کی خاموشی اور وقف بورڈ کو دستاویزات پیش کرنے میں تاخیر کے متعلق بھی سوال اٹھائے جانے لگے ہیں ۔ ماہرین قانون کا کہناہے کہ وقف بورڈ اور نئے قوانین کے تحت وقف پورٹل UMEED پر جامعہ نظامیہ کی مذکورہ جائیداد کی مصدقہ فہرست میں شامل ہونے کے باوجود اس قیمتی جائیداد کے متعلق بے اعتنائی اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور حکومت کے درمیان معاہدہ کے بعد اگر اسٹیٹ بینک آف انڈیا تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست سے دستبرداری اختیار کرتا ہے تو 'جامعہ نظامیہ ' اور تلنگانہ وقف بورڈ دونوں کا ہی موقف انتہائی کمزور ہوجائے گا ۔سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے محکمہ مال کے علاوہ دیگر متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ادعا کو قبول کرکے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو نشاندہی کردہ 15ایکڑ اراضی حوالہ کرنے کے اقدامات کو تیز کیا جائے تاکہ جلد از جلد ہائی کورٹ میں دائر مقدمہ سے دستبرداری کو یقینی بنایا جاسکے۔3

