پولیس کی موجودگی میں مارپیٹ افسوسناک ۔ تحصیلدار آفس میں بھی پرنسپل کی ہتک ۔ سوشیل میڈیا پر برہمی
حیدرآباد۔28۔جون(سیاست نیوز) ریاست میں دوسری سرکاری زبان 'اردو' کو نفرت کی علامت کے طور پر پیش کرکے اردو پڑھانے والے ٹیچر کو نشانہ بنانے کی کوشش اور پرنسپل پر حملہ نے تلنگانہ اضلاع میں تیزی سے پھیلنے والی نفرت کو آشکار کر دیا ہے۔ تلنگانہ میں اب اردو پڑھانے پر بھی اعتراض ہونے لگا ہے اور خانگی اسکول میں جہاں طلبہ کی خواہش کے مطابق 'اردو' زبان کی تعلیم شروع کی گئی تھی اس اسکول کے پرنسپل عامر خان کو ہندوتوا وادی عناصر نے پولیس کی موجودگی میں حملہ کا نشانہ بناکر زدوکوب کیا ۔ضلع نظام آباد 'آرمور'کے اسکول بھارت چندراسکول میں اردو تعلیم کا انتظام کرنے والوں پر اس حملہ نے سوشل میڈیا کے ذریعہ ملک بھر میں ریاست کے حالات کو آشکار کردیا ہے۔ 'اردو ' زبان کو مسلمانوں سے جوڑتے ہوئے یہ الزام عائد کیا جا رہاہے کہ مسلمانوں کی زبان کو اکثریتی طبقہ کے بچوں کو پڑھایا جارہاہے۔اسکولی طلبہ کو اردو بطور مضمون پڑھانے پر اعتراض اور پرنسپل پر پولیس کی موجودگی میں حملہ کے ویڈیو نے بیشتر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر کہرام مچادیا ہے ۔ ملک کے مختلف حصوں میں اب تک گاؤ کشی ' تبدیلی ٔ مذہب ' سڑک پر نماز پڑھنے اور دعوت و تبلیغ کے الزامات پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن اب 'اردو ' کی تعلیم دینے پر اساتذہ کو نشانہ بنانے کے بعد اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ فرقہ پرستی کا زہر معاشرہ میں کس حد تک سرائیت کرچکا ہے اور نفرت انگیز مہم چلانے والے عناصر 'زبان' میں بھی مذہب تلاش کرکے مسلمانوں کو نشانہ بنانے لگے ہیں۔ آرمور واقعہ میں ہندوتوا عناصر کی زدوکوب کا نشانہ بننے والے پرنسپل اسکول نے بتایا کہ ان کے اسکو ل میں 'اردو' زبان بطور مضمون شروع کرنے اولیائے طلبہ و سرپرستوں کے مطالبہ پر ہی انہوں نے اسکول کرسپانڈنٹ سے مشاورت کی تھی اور جب اسکول میں اردو کے مدرس کا تقرر کرکے تعلیم کا آغاز کیا گیا تو اندرون 3یوم انہیں حملہ کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوتوا عناصر نے تو انہیں زدوکوب کیا لیکن سرکاری عملہ نے ان کی توہین و تضحیک کی ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ انہوںنے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تحصیلدار کے دفتر میں ہراساں و ذلیل کیاگیا اور انہیں فرش پر بٹھایا گیا جبکہ ان کے آفس میں غنڈہ عناصر نے انہیں پولیس کی موجودگی میں تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اس واقعہ کے بعد آرمور کے علاوہ ضلع نظام آباد کے عوام بالخصوص اقلیتی طبقہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ تلنگانہ میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا موقف حاصل ہے اور یہ کسی مذہب یا قوم کی زبان نہیں بلکہ ہندستان میں پیدا ہوئی یہ زبان بھی اب تعصب کا نشانہ بن رہی ہے۔3

