نئی دہلی، 9 جولائی (یو این آئی) کانگریس نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے ) کو تحلیل کرنے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ مرکزی حکومت نے ایجنسی کو جان بوجھ کر کمزور اور نااہل بنایا ہے ، جس کی وجہ سے کمپیوٹر پر مبنی امتحانات (سی بی ٹی) میں بھی پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے معاملات سامنے آ رہے ہیں۔کانگریس کے محکمہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ گزشتہ مئی میں نیٹ-یو جی امتحان کا پیپر لیک ہونے کے چند ہی دنوں بعد وزیر تعلیم نے اعلان کیا تھا کہ اگلے سال سے نیٹ امتحان کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ (سی بی ٹی) کے ذریعے منعقد کیا جائے گا۔ اس سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ پین-پیپر پر مبنی امتحان کے برعکس سی بی ٹی میں پیپر لیک نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ اب خبریں ہیں کہ یو جی سی۔نیٹ سوشیالوجی امتحان کا پیپر، سی بی ٹی ہونے کے باوجود، لیک ہوا ہو سکتا ہے ۔ اس سے پہلے یو جی سی-نیٹ انگلش امتحان میں بھی بغیر کسی تبدیلی کے تقریباً پورے سوالات پرانے سوالناموں سے پوچھے جانے کے الزامات سامنے آئے تھے ۔رام رمیش نے کہا کہ اس سے واضح ہے کہ امتحان کا فارمیٹ چاہے پین۔پیپر ہو یا سی بی ٹی، پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیاں اس لیے ہو رہی ہیں کیونکہ مودی حکومت کی وزارتِ تعلیم ‘کمپرومائز’ ہو چکی ہے اور این ٹی اے کو جان بوجھ کر کمزور اور نااہل بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ اور این ٹی اے کو تحلیل کرنے کا اپنا مطالبہ دہرایا۔

