Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
مہاراشٹرا میں یکساں سیول کوڈمسودہ کی تیاری کا فیصلہ

مہاراشٹرا میں یکساں سیول کوڈمسودہ کی تیاری کا فیصلہ

سیاست 2 hrs ago

7 رکنی کمیٹی کی تشکیل، کانگریس کا وسیع مشاورت پر زورممبئی ۔ 9جولائی ( ایجنسیز )مہاراشٹرا حکومت نے ریاست میں یکساں سیول کوڈ کا مسودہ تیار کرنے اور مختلف قانونی، سماجی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لینے کیلئے 7 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے اس اقدام پر جہاں آئندہ قانون سازی کے امکانات پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے وہیں اس معاملے پر مختلف طبقات، خصوصاً اقلیتی حلقوں میں بھی بے چینی پائی جا رہی ہے اور وسیع مشاورت کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ چیف منسٹرٰ دیویندر فڑنویس نے اسمبلی میں اعلان کیا کہ سبکدوش جج جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی یکساں سیول کوڈ سے متعلق تمام قانونی، سماجی اور انتظامی امور کا تفصیلی مطالعہ کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی مختلف متعلقہ فریقوں، ماہرین اور دیگر طبقات کی آرا حاصل کرنے کے بعد اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔ اس مقصد کے لیے کمیٹی کو 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔حکومت کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کی بنیاد پر یکساں سیول ضابطہ کا حتمی مسودہ تیار کیا جائے گا۔ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ ریاستی حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ سرمائی اجلاس کے دوران اس سے متعلق بل اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں پیش کیا جائے تاکہ آئینی اور قانونی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔یکساں سیول ضابطہ کا مقصد شادی، طلاق، وراثت، گود لینے اور خاندانی معاملات سے متعلق قوانین میں تمام شہریوں کے لیے یکساں قانونی نظام نافذ کرنا ہے۔ تاہم اس موضوع پر ملک میں طویل عرصہ سے مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں اور متعدد سماجی و مذہبی تنظیمیں اس حوالے سے اپنے تحفظات بھی ظاہر کرتی رہی ہیں۔دریں اثنا کانگریس کے سینئر رہنما سچن ساونت نے حکومت کے اعلان پر کہا کہ آئین کے رہنما اصولوں میں شامل یکساں سیول ضابطہ کی شق سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی آئینی فکر کا حصہ تھی اس لیے حکومت کو اس تاریخی پس منظر کا بھی اعتراف کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی تصور کے مطابق اس نوعیت کی قانون سازی اتفاق رائے اور وسیع مشاورت کے ذریعہ ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق قانونی ماہرین، وکلا، مختلف برادریوں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کر ایسا مسودہ تیار کیا جانا چاہیے جو سبھی طبقات کے لیے قابل قبول ہو۔ اگر اسے سیاسی تنازعہ یا سماجی تقسیم پیدا کرنے کے مقصد سے لایا گیا تو پارٹی اس کی مخالفت کرے گی۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu