اس بار صدر نشین بار کونسل نشانہ پر !نلسار یونیورسٹی کے لا گریجویٹس کا رجسٹریشن نہ کرنے کی ہدایت پر آن لائین مباحث کا آغاز
منن مشرا 2012 سے بار کونسل کے صدر ہیں۔ جوابدہی طئے کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ سورو داس
نئی دہلی 13 اگسٹ ( ایجنسیز ) کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے ایک بار پھر اس نعرہ کا اعادہ کیا ہے جس کی بنیاد پر ان کی آن لائین کاکروچ جنتا پارٹی کا وجود عمل میں آیا تھا ۔ اس بار انہوں نے قانونی برادری کو نشانہ بنایا کیونکہ بار کونسل اور نلسار یونیورسٹی آف لا کے درمیان مسئلہ پیدا ہوا تھا ۔ نلسار یونیورسٹی نے اپنے کانوکیشن کیلئے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کو مدعو کیا ہے جس پر یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری پانے والے طلباء نے اعتراض کیا تھا ۔ اس صورتحال میں بار کونسل آف انڈیا نے ریاستی بار کونسلوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ نلسار 2026 کے گریجویٹس کا اندراج نہ کریں کیونکہ انہوں نے چیف جسٹس کی مخالفت کی ہے ۔ اس صورتحال پر سوشیل میڈیا پوسٹ کرکے ابھیجیت ڈپکے نے کہا کہ ' اگر تمام قانونی کاکروچس ساتھ آجائیں تو کیا ہوگا ؟ '' ۔ واضح رہے کہ بار کونسل آف انڈیا نے بعد میں اپنی ہدایت سے دستبرداری اختیار کرلی تھی ۔ واضح رہے کہ بار کونسل کے صدر مسٹر منن کمار مشرا نے یہ ہدایت دی تھی کہ نلسار سے قانون کی ڈگری لینے والے کسی بھی طالب علم کا بحیثیت وکیل اندراج نہیں کیا جانا چاہئے ۔ تاہم بعد میں انہوں نے اس ہدایت کو واپس لے لیا تھا ۔ ابھیجیت ڈپکے نے ایک اور پوسٹ کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ '' کیا منن مشرا استعفی دو کا وقت آگیا ؟ ''۔ اس دوران سی جے پی ترجمان سورو داس نے ڈپکے کی تائید کی اور کہا کہ بار کونسل کو اس مسئلہ کا جائزہ لینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ منن مشرا 2012 سے بار کونسل آف انڈیا کے صدر ہیں ۔ انہوں نے کیا کیا ہے ؟ اس کا جائزہ لیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام قانونی کاکروچس کو ایک ٹاسک ملا ہے ۔ ہمیں اب بار کونسل میں جوابدہی کا احساس پیدا کرنا چاہئے ۔ اب منن مشرا کی جوابدہی کا تعین کیا جانا چاہئے ۔

