چیف الیکشن کمشنر پر عوام کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کا الزام ' کئی مقامات پر نعرہ بازی
نئی دہلی، 28 ستمبر (یو این آئی) کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ان کی برخواستگی کے مطالبہ پر آج ملک بھر میں 1,000 سے زیادہ مقامات پر مظاہرے کئے ۔ کانگریس جنرل سکریٹری کے ۔ سی۔ وینوگوپال نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے ساتھی الیکشن کمشنروں کے تبصروں کو نظرانداز کرکے فیصلے کئے اور ان کا طرزِ عمل انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات پیدا کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر برقرار رہنے کا اخلاقی حق نہیں ہے اور انہیں فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کی ساکھ اور غیر جانب داری کا تحفظ کرنا ہے ، لیکن کمیشن کے آئینی عہدے کا استعمال انتخابی عمل کو متاثر کرنے کیا جا رہا ہے ۔ یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چِب کی قیادت میں دہلی میں مظاہرہ کیا گیا۔ مسٹر چِب نے گیانیش کمار کے استعفے اور ان کے خلاف قانونی اور آئینی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی ملکیت نہیں بلکہ ملک کے عوام کا ادارہ ہے اور انتخابی اداروں کے کام کاج پر سوالات کا جواب شفافیت سے دیا جانا چاہیے ۔ دہلی میں کانگریس انچارج قاضی نظام الدین اور ریاستی صدر دیویندر یادو کی موجودگی میں کانگریس کارکنوں نے الزام لگایا کہ گیانیش کمار نے عوام کے حقِ رائے دہی کو متاثر کیا ہے ۔ چھتیس گڑھ میں سکھ دیو بھگت اور ریاستی صدر دیپک بائج کی قیادت میں، گجرات میں امیت چاوڑا کی قیادت میں اور مدھیہ پردیش میں انچارج ہریش چودھری، صدر جیتو پٹواری اور اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار کی موجودگی میں مظاہرے کیے گئے ۔ کارکنوں نے بھوپال الیکشن کمیشن کے دفتر کا گھیراؤ کیا۔ آسام میں گوہاٹی کے منبیندر شرما احاطے میں کانگریس نے مظاہرہ کیا۔ اتراکھنڈ میں ٹہری میں مظاہرہ کیا گیا۔ کیرالہ کے ملاپورم میں کانگریس کارکنوں نے کلکٹریٹ تک مارچ نکالا۔ راجستھان میں سکھ جندر سنگھ رندھاوا، صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا، سابق چیف منسٹر اشوک گہلوت اور اپوزیشن لیڈر ٹیکارام جولی کی موجودگی میں کارکنوں نے مظاہرہ کیا۔

