ڈیزل بھی سنچری کے قریب ۔ انتخابات ختم مہنگائی شروع اور عوام پریشانحیدرآباد ۔ 15 مئی ۔ (سیاست نیوز) انتخابات کا شور تھمتے ہی ملک بھر میں مہنگائی کا نیا دور شروع ہوگیا ہے ۔ آئیل کمپنیوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد 15 مئی 2026 ء سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے ۔ اس فیصلے نے عام آدمی کی جیب پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے کافی نمایاں ہے۔ حیدرآباد میں پٹرول کی قیمت میں 3 روپئے 39 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ ہوا ہے جب کے اب ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 110.89 روپئے تک پہونچ گئی ہے ۔ ڈیزل 14 مئی تک فی لیٹر کی قیمت 95.7 روپئے تھی جو اب 3.26 روپئے اضافے کے ساتھ 98.96 روپئے فی لیٹر ہوگئی ۔ آئیل کمپنیوں نے ملک بھر میں قیمتوں میں 2.83 روپئے سے 3.29 روپئے تک اضافہ کیا ہے ۔ دیگر شہروں میںپٹرول کی قیمت کچھ اس طرح ہے ۔ دہلی میں پٹرول 97.77 روپئے اور ڈیزل 90.67 روپئے تک فی لیٹر پہونچ گیا ۔ کولکتہ میں پٹرول کی قیمت 108.74 روپئے ، ممبئی اور چینائی جیسے شہروں میں 103 روپئے کے ہندسے کو عبور کرگئی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت اب تک قیمتیں نہ بڑھانے کا دعویٰ کرتی رہی تھی لیکن انتخابی نتائج سامنے آتے ہی کمپنیوں کو قیمتوں میں اضافہ کرنے کی ہری جھنڈی دکھا دی گئی ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتخابی سرگرمیاںختم ہوتے ہی حکومت نے اپنا اصل رُخ دکھادیا ہے ۔ جس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہوگا اور براہ راست اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اس کا اثر دیکھنے کو ملے گا ۔ پٹرول اور ڈیزل کے قیمتوں میں اضافہ پر عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو واپس لینے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاہے۔ 2/m/b

