ملزمین بری کردئے گئے ۔ فیصلے کے خلاف اپیل نہیں ہوئی ۔ فائرنگ کرنے والے پولیس عہدیدار وں پر بھی کارروائی نہیںمحمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد17مئی : مکہ مسجد بم دھماکہ کو 19سال ہوچکے ہیں لیکن ان دھماکوں میں کسی ملز م کو نہ سزا ء ہوئی اور نہ دھماکہ کرنے والوں کی نشاندہی ہوپائی ہے۔ ان دھماکوں کے متاثرین ہوں یا اس دن پولیس فائرنگ کے متاثرہ خاندان ہوں وہ ہنوز انصاف حصول کے منتظرہیں۔ 18مئی 2007 کو 'مکہ مسجد' میں ہوئے طاقتور بم دھماکہ جس میں 9 افراد کی شہادت اور58 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے بعد بم دھماکہ کے بعد پولیس فائرنگ میں 5 افراد کی جان گئی تھی لیکن اس میں کسی پولیس عہدیدار کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔18 مئی 2007 حیدرآباد کی وہ سیاہ تاریخ جس دن نماز جمعہ کے فوری بعد مکہ مسجد میں دھماکہ میں 9 افراد شہید ہوئے تھے اور اس کے بعد پولیس فائرنگ میں 5 افراد کی شہادت ہوئی تھی ۔ اس وقت کے چیف منسٹر ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی نے بم دھماکہ اور پولیس فائرنگ کی تحقیقات کیلئے سماجی جہد کاروں اور تنظیموں کے دباؤ کے بعد 2جولائی 2007کو سابق جج جسٹس وی بھاسکر راؤ کی نگرانی میں ایک رکنی کمیشن تشکیل دے کر تحقیقات کا اعلان کیا تھا اور جسٹس وی بھاسکر راؤ کمیشن نے اکٹوبر 2010 میں مکمل رپورٹ اس وقت کے چیف منسٹر آنجہانی ڈاکٹر روشیا کو پیش کی تھی جو تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئی اور نہ اسمبلی میں پیش کی گئی بلکہ اس کو ایوان میں پیش کرنے متعدد مرتبہ توجہ دہانی کروائی گئی ۔مکہ مسجد بم دھماکہ کے بعد حیدرآبادو سکندرآباد و ملک کی کئی ریاستوں سے مسلم نوجوانوں کو حراست میں لے کر اذیتیں دی گئی تھیں اوران شکایات کے متعلق بھی تلنگانہ اقلیتی کمیشن سے ایل روی چندر ایڈوکیٹ کو ایڈوکیٹ کمشنر مقرر کرکے تحقیقات کروائی گئی اور جن نوجوانوں کو بے قصور قرار دیا گیا حکومت سے انہیں معاوضہ بھی جاری کیاگیا تھا لیکن مکہ مسجد دھماکہ مقدمہ کی سماعت کررہی NIAعدالت نے16اپریل 2018 کو دھماکہ کے تمام ملزمین دیویندر گپتا ' لوکیش شرما' سوامی اسیمانند' بھرت موہن لعل رتیشور' راجندر چودھری کو بری کردیا اور خصوصی جج کے رویندر ریڈی نے فیصلہ کے فوری بعد اپنا استعفیٰ پیش کردیا اور دھماکہ کے ملزمین کی برأت کے بعد NIAنے اس کے خلاف عدالت میں تاحال کوئی اپیل نہیں کی بلکہ اس کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ NIA نے مکہ مسجد مقدمہ میں کوئی پیروی نہیں کی اور نہ ہی NIA عدالت کے فیصلہ کے خلاف کوئی اپیل دائر کی اس کی ذمہ داری NIA کی ہے لیکن بھاسکر راؤ کمیشن کی تشکیل حکومت نے کی تھی اس کی رپورٹ کو منظر عام پر لاکر احتجاجی نوجوانوں کو بے دریغ فائرنگ کے ذمہ دار پولیس عملہ و اہلکاروں کے خلاف کارروائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ پولیس فائرنگ کے متاثرین کو انصاف کیلئے 'بھاسکر راؤ کمیشن ' کی رپورٹ کو ایوان میں پیش کرکے ان کے خلاف کارروائی کرے ۔ مکہ مسجد دھماکہ و فائرنگ میں 14 مسلم نوجوان جاں بحق ہوئے یہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں ۔سانحہ کی تحقیقات ' متاثرین سے انصاف کا راج شیکھر ریڈی نے تیقن دیا تھا اور آج ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے ایسے میں حکومت کو اس رپورٹ کو منظر عام پر لانا چاہئے ۔

