Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
تلنگانہ پر بڑھتا ہوا قرض کا بوجھ، مزید 2 ہزار کروڑ کا حصول

تلنگانہ پر بڑھتا ہوا قرض کا بوجھ، مزید 2 ہزار کروڑ کا حصول

سیاست 4 days ago

نئے مالیاتی سال کے پہلے دو ماہ میں 12,900 کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا گیاحیدرآباد۔ 20 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے ایک بار پھر اوپن مارکٹ سے بھاری قرض لینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی جانب سے منگل کو منعقدہ سیکوریٹی بانڈز کی نیلامی کے ذریعہ ریاستی حکومت نے مزید 2000 کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا ہے۔ رواں مالیاتی سال 2026-27 میں ریونت ریڈی حکومت کی جانب سے آر بی آئی سے قرض لینے کا یہ چوتھا موقع ہے جس کے بعد موجودہ مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ میں لیا گیا جملہ قرض 12,900 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ منگل کو حاصل کردہ 2 ہزار کروڑ روپے کے قرض کی تفصیلات کے مطابق حکومت نے یہ رقم الگ الگ مدت اور سود کی شرحوں پر حاصل کی ہے۔ اس میں سے 750 کروڑ روپے 7 سال کی مدت کے لئے 7.74 سالانہ سود پر اور 500 کروڑ روپے 11 سال کی مدت کے لئے 7.84 فیصد سود پر اور ماباقی 750 کروڑ روپے 21 سال کی طویل مدت کے لئے 7.91 فیصد سالانہ سود کی شرح پر حاصل کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت نے اپریل اور جون کی رواں سہ ماہی کے لئے آر بی آئی سے مجموعی طور پر 18,900 کروڑ روپے کا قرض لینے کا ہدف مقرر کیا تھا جس کے تحت اپریل کے مہینے میں دو قسطوں کے ذریعہ 6,900 کروڑ اور پھر جاریہ ماہ 5 مئی کو مزید 4000 کروڑ روپے حاصل کئے تھے۔ مالیاتی ماہرین نے حکومت کی جانب سے طئے شدہ تخمینوں سے کئی زیادہ قرض حاصل کرنے کی پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ مالیاتی سال 2025-26 کے بجٹ میں حکومت نے اوپن مارکٹ سے 54,009 کروڑ روپے قرض لینے کا اعلان کیا تھا لیکن سال کے اختتام تک یہ حد پار کرتے ہوئے مجموعی طور پر 85,840 کروڑ روپے کا بھاری قرض حاصل کیا تھا جو کہ بجٹ کے تخمینے سے 44 فیصد زیادہ ہے۔ رواں مالی سال کے لئے بھی حکومت نے بجٹ میں 80,000 کروڑ روپے کا قرض لینے کی تجویز پیش کی ہے۔ تاہم موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے ماہرین معاشیات خدشات ظاہر کررہے ہیں کہ اس بار بھی تلنگانہ حکومت طئے شدہ حد سے کہیں زیادہ قرض لے کر ریاست کو مزید معاشی بحران اور قرض کے دلدل میں دھکیل سکتی ہے۔ 2؍F

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu