Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ہندوستان میں 29 کروڑ بڑے جانور ۔بیف اکسپورٹ میں دوسرا مقام

ہندوستان میں 29 کروڑ بڑے جانور ۔بیف اکسپورٹ میں دوسرا مقام

سیاست 2 weeks ago

عامر علی خاںہمارا وطن عزیز ہندوستان مختلف مذاہب کے ماننے والوں بے شمار زبانوں اور بولیوں کے بولنے والوں، متعدد تہذیبوں کی نمائندگی کرنے والوں کا ملک ہے اور ساری دنیا میں کثرت میں وحدت کی بہترین مثال ہے ۔ قدرت نے بھی اس عظیم ملک کو بے پناہ حسن سے سجایا اور قدرتی وسائل سے مالا مال کیا لیکن 90 کے دہے کے بعد سے فرقہ پرست طاقتوں نے اپنے خفیہ ایجنڈہ کو آگے بڑھانے جارحانہ کارروائیاں کی اور آج یہ حال ہوگیا ہے کہ مختلف بہانوں سے اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے اور انہیں حق رائے دہی سے محروم کرنے یا پھر مسلمانوں کے ووٹوں کی اہمیت پوری طرح گھٹانے کی مجرمانہ سازشوں اور کوششوں پر عمل کرنے میں کسی قسم کی کسر باقی نہیں چھوڑی جارہی ہے جبکہ عدلیہ کو ملک کے درپیش مسائل پر چاہے وہ بیروزگاری کا مسئلہ ہو یا عوام کی کمر توڑتی مہنگائی کا مسئلہ ہو ، از خود نوٹ لینا چاہئے کیونکہ آج ملک کے جمہوری و سیکولر کردار اور خود ملک کو عدلیہ ہی بچاسکتی ہے۔ ہندوستان بھر میں خاص طور پر بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں 2014 سے ایک خطرناک رجحان منظر عام پر آیا ہے اور وہ یہ ہے کہ بقرعید کے قریب آتے ہی فرقہ پرست طاقتیں جنہیں بلا شک و شبہ حکومتوں کی سرپرستی حاصل رہتی ہے ، بڑے جانوروں کی قربانی میں رکاوٹیں پیدا کرنے گڑبڑ کرتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ماحول کو زہر آلود کردیا جاتا ہے ۔ اب حال یہ ہوگیا ہے کہ ممبئی جسے کبھی ہندوستان کا اقتصادی دارالحکومت کہا جاتا تھا وہاں بکروںکی قربانی کے خلاف بھی فرقہ پرست اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ طاقتیں جو اپنی حرکتوں سے ملک کی معیشت اور عالمی سطح پر ملک کی شبیہہ متاثر کرے جسے بھیانک جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں ، کس طرح مختلف بہانوں سے مسلمانوں کو تنگ کر رہی ہیں۔ جہاں تک ممبئی کی ایک ہاؤزنگ سوسائٹی میں بکروں کی قربانی کی بھی اجازت نہ دیئے جانے اور گڑبڑ پیدا کرنے کا سوال ہے، اس سلسلہ میں شیوسینا ادھو ٹھاکرے گروپ کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے بہت ہی اچھی بات کہی۔ انہوں نے مشہور و معروف کمکھپا مندر میں جانوروں کی بلی چڑھانے پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے اپنے بیان میں خاص طورپر بیلوں اور بھینسوں کی بلی چڑھانے کا حوالہ دیا۔ راوت کے مطابق کمکھپا مندر کامپلکس میں بھینسوں و بیلوں کی بلی چڑھائی جارہی ہے ، راوت نے قربانی کے رسم کی مدافعت کرتے ہوئے بی جے پی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت پر چن چن کر مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور دوہرا معیار اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا ۔ اگر انصاف کی بات کی جائے تو بی جے پی اور سنگھ پریوار کی ذیلی تنظیمیں جان بوجھ کر ذبیحہ گاؤ کو ایک سنگین مسئلہ کے طور پر پیش کر رہی ہیں حالانکہ ملک کو مہنگائی بیروزگاری فرقہ پرستی اور خواتین پر مظالم جیسے خطرناک مسائل کا سامنا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 2014 سے مودی حکومت میں بیف اکسپورٹ (برآمد) میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان ، ملایشیا ، انڈونیشیا، ویٹنام ، مصر ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وغیرہ کو 4 ارب ڈالرس مالیتی بیف برآمد کرتا ہے ۔ اس ضمن میں امریکی محکمہ زراعت نے آئندہ برسوں میں ہندوستان کی جانب سے 1.55 کا 1.65 ملین میٹرک ٹن بیف برآمد کرنے کی پیش قیاسی کی ۔ آج بیف اکسپورٹ کے معاملہ میں ہندوستان دنیا کے نمبر ون ملک برازیل کے قریب پہنچ گیا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ہندوستان میں گائے ، بیل ، بھینسوں کی سب سے بڑی آبادی ہے جس میں 19 کروڑ روایتی Bovina Cattle اور 10 کروڑ واٹر بفالو شامل ہیں ۔ آپ کوبتادیں کہ اترپردیش میں ان جانوروں کی آبادی 1.9 کروڑ ، مغربی بنگال میں 1.3 کروڑ اور مہاراشٹرا میں 1.4 کروڑ ہے ۔ حکومت ہند کے جانوروں کی ابادی سے متعلق سرکاری ڈیٹا کے مطابق سالانہ 34 لاکھ 10 ہزار جانوروں کو ہمارے ملک میں ذبح کیا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہندوستان میں ہرروز 900,000 بڑے جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ملک کی صرف 5 ریاستوں اترپردیش ، مغربی بنگال ، مدھیہ پردیش ، راجستھان اور مہاراشٹرا میں گائیوں ، بھینسوں اور بیلوں کی آبادی 8 کروڑ ہوگئی ہے ۔ دوسری طرف مسلمانوں کو بڑے جانوروں کی قربانی سے روکنے والوں کو اس بات کیلئے شرم آنی چاہئے کہ نریندر مودی اور بی جے پی جب سے اقتدار میں آئے نہ صرف بیف اکسپورٹ میں بے تحاشہ اضافہ ہوا بلکہ فرقہ پرست طاقتوں نے دوہرا معیار اختیار کیا ہے ۔ ایک طرف گائے کو یہ ایک مقدس جانور قرار دیتے ہیں، دوسری طرف بقول اپوزیشن قائدین بڑے پیمانہ پر دنیا بھر کے ملکوں کو ایک عالمی قصائی کی طرح بیف فروخت کر رہے ہیں ۔ مسلمانوں کو بڑے جانوروں کی قربانی سے روکنے کیلئے گڑبڑ کرنے والی فرقہ پرست تنظیموں کی بے غیرتی اور بے شرمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے لاکھوں ٹن بیف بیرون ملک فروخت کرنے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں جبکہ جانوروں کی منتقلی کے بہانہ غریب مسلمانوں پر حملے کرتے ہیں ، انہیں ہجومی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، ان کا قتل کرتے ہیں ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ لوگ حکومت کو ذبیحہ گاؤ سے اور عالمی بازار میں بیف فرخت کرنے سے کیوں نہیں روکتے۔ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں بیف اکسپورٹ کرنے والی 8 بڑی کمپنیوں کے مالکین مسلمان نہیں ہے مثال کے طور پر الکبیر لمٹیڈ کا مالک ستیش سبھروال ، عربین اکسپورٹس کا مالک سنیل کپور ، ایم کے آر اکسپورٹ کا مالک مدن ایباٹ، النور اکسپورٹس کا پروپرائٹر سنیل سود، اے او وی اکسپورٹس او پی ارورہ چلاتے ہیں جبکہ اترپردیش ، مہاراشٹرا ، کرناٹک اور ہریانہ میں ذبیحہ گاؤ پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن خود شنکر اچاریہ کے مطابق سب سے زیادہ بیف اترپردیش سے اکسپورٹ کیا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس چیف منسٹر اترپردیش مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جبکہ عوام کو چاہئے کہ مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ یوگی حکومت کو بھی جوابدہ بنائے اور ان سے سوال کرے کہ اندرون ملک ذبیحہ گاؤ اور بیف پر پابندی اور بیرونی ملکوں کو بیف کی فروخت آخر یہ دوہرا معیار کیوں ؟ یہ دوغلاپن کیوں ؟ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ مسلم دشمنی کیلئے بدنام اترپردیش سے سب سے زیادہ بیف اکسپورٹ کیا جاتا ہے اور دوسری طرف جانور کے نام پر انسانوں کا قتل کیا جاتا ہے ۔ 2014 سے تاحال 50-75 مسلمانوں کو ہجومی تشدد میں شہید کیا گیا۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu