Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
نیپال میں اچانک ہلاکت خیز سیلاب۔ 400 افراد ہلاک

نیپال میں اچانک ہلاکت خیز سیلاب۔ 400 افراد ہلاک

سیاست 9 hrs ago

ہزاروں افراد لاپتہ ۔ 300 ہندوستانی بھی شامل ۔ 54 افراد کو بچالیا گیا ۔ تبت میں بھی بھاری نقصانات

کٹھمنڈو 27 اگسٹ ( ایجنسیز ) نیپال میں چہارشنبہ کی شام اچانک قیامت خیز سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی جس کے نتیجہ میں تاحال 400 افراد کی ہلاکت کی توثیق ہوچکی ہے جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد لاپتہ بتائے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کا تقریبا 30 ممالک سے تعلق ہے جو نیپال میں تفریح یا مذہبی مقامات کا دورہ کرنے پہونچے تھے ۔ تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ نیپال ۔ تبت سرحد کے قریبی علاقوں میں اچانک ہی انتہائی شدید سیلاب نے تباہی مچائی اور چند سیکنڈ میں ایک وسیع و عریض علاقہ تباہی کی لپیٹ میں آگیا ۔ کئی سیاحوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ کئی مقامات پر عمارتیں ' مکانات ' گاڑیاں اور بریجس بھی سیلاب کی زد میں آ کر بہہ گئے ہیں۔ تباہی اس قدر اچانک آئی کہ کسی کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا اور چند سیکنڈ کے وقت میں سب کچھ تہس نہس ہو کر رہ گیا ۔ کچھ مقامات پر سیلاب کے پانی کی شدت کو دیکھتے ہوئے عوام کو اپنی جان بچانے بھاگتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے ۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا جا رہا ہے کہ ہمالیہ کے بالائی علاقوں میں گلیشئیر پھٹنے سے یہ تباہی آئی ہے اور سیلاب نے انتہائی شدید رخ اختیار کرلیا ۔ اس کے نتیجہ میں ایک بڑا علاقہ زیر آب آگیا تھا اور کئی افراد کے پانی میں بہہ جانے کی اطلاعات ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اس اچانک آئے ہلاکت خیز سیلاب کا اثر تبت میں بھی دیکھا گیا ہے اور تبت میں بھی 558 افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ تبت میں تین افراد کی ہلاکت کی بھی توثیق ہوئی ہے تاہم ابھی قطعی اعداد و شمار کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ۔ سرحد کے دونوں ہی جانب سینکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کی توثیق ہوئی ہے ۔ کہا گیا کہ نیپال کے اس تباہ کن سیلاب میں 300 کے لگ بھگ ہندوستانی سیاح لاپتہ ہیں جبکہ 54 کو تاحال بچانے میں کامیابی ملی ہے ۔ اس سیلاب کا اثر نیپال ۔ چین سرحد کے علاقہ میں بھی دیکھنے کو ملا ہے جہاں پانی کا بہاؤ بہت زیادہ تھا ۔ یہ انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ نیپال کی ایک دریاء بھوٹے کوشی میں سطح آب میں اضافہ ہونے لگا ہے جس کے بعد علاقہ میں نئے سیلاب کے اندیشے پیدا ہوگئے ہیں ۔ کہا گیا کہ جھیل کے پشتے کمزور پڑ رہے ہیں اور ان کے وقت ٹوٹنے کے اندیشے لاحق ہوگئے ہیں ۔

نیپال و چین کے سرحدی علاقہ میں کئی دریاوں کی سطح آب میں خطرناک اضافہ
سیلاب سے متاثرہ علاقوںتک رسائی میں مشکلات ۔ ہیلی کاپٹرس کا استعمال ۔ کئی آبادیاں ملبے تلے دب گئیں۔ بڑے پیمانے پر تباہی

کٹھمنڈو 27 اگسٹ ( ایجنسیز ) نیپال میں آئے ہلاکت خیز سیلاب کے بعد کئی ندیوں کی سطح آب میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے اور یہ اندیشے ظاہر کئے گئے ہیں کہ کئی علاقوں میں دوبارہ سیلاب کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ۔ نیپال ۔ چین سرحد کے دونوں جانب ندیوں کی سطح میں اضافہ کے دوران چین اور نیپال دونوں کی حکومتوں نے ندیوں کی سطح میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ کئی علاقوں میں دوبارہ سیلاب آسکتا ہے ۔ نیپال کے سیلاب میں تاحال مرنے والوں کی تعداد 400 تک پہونچ گئی ہے اور اس میں مزید اضافہ کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں ۔ نیپالی حکام کی جانب سے تاحال 400 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے جبکہ چینی میڈیا میں کہا گیا تھا کہ بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا اتلاف ہوا ہے ۔ تاحال ہزاروں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے جن میں 300 ہندوستانی بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے بچاؤ اور تلاشی مہم تیز کردی گئی ہے اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن بھی شروع کردیا گیا ہے ۔ جو لوگ لاپتہ ہیں ان کی تلاش شروع کردی گئی ہے اور مختلف ٹیمیں اس کام میں حصہ لے رہی ہیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں چتوان علاقہ میں ہونے کی اطلاع ہے جہاں تاحال 132 نعشیں برآمد کی گئی ہیں ۔ اس کے بعد نول پراسی علاقہ میں 82 ' گورکھا علاقہ میں 30 ' ڈھاڈنگ علاقہ میں 33 ' نواکوٹ میں 28 ' ٹناہن میں 22 اور راسوا میں 17 نعشیں تاحال دستیاب ہوئی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ بعض مقامات پر نعشیں اور انسانی اعضاء بھی دستیاب ہوئے ہیں جن سے مزید اندیشے لاحق ہورہے ہیں۔ اس دوران اطلاع ملی ہے کہ چین کے وزیر اعظم لی قیانگ نے چینی حدود میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جو نیال کی سرحد کے قریب واقع ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اس علاقہ میں بھی سیلاب کے پانی میں کئی گاوں بہہ گئے ہیں اور تاحال تین افراد کی ہلاکت کی توثیق ہوئی ہے ۔ اس علاقہ میں بھی سینکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے ۔امدادی کارکنوں کو الگ تھلگ علاقوں تک پہنچنے اور سینکڑوں غیر ملکی شہریوں کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ سیلاب نے مکانات ، گاڑیوں اور تجارتی عمارتوں کو اپنی زد میں لے لیا اور کئی بستیاں ملبے تلے دب گئیں۔ کہا گیا ہے کہ نیپال اور تبت کے اعداد و شمار کو ملا کر لاپتہ افراد کی تعداد کم از کم 1,384 بنتی ہے ، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ مواصلاتی رابطے بحال ہونے اور امدادی ٹیموں کے ان علاقوں تک پہنچنے کے بعد یہ تعداد نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتی ہے جہاں فی الحال رسائی ممکن نہیں۔ نیپال کی جانب سڑکوں اور پلوں کی تباہی سے حکام کو متاثرین تک پہنچنے ہیلی کاپٹروں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے ۔ نیپالی رکن پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کی خارجہ تعلقات و سیاحت کمیٹی کی چیئرپرسن سمنما اداس نے کہا کہ فوج نے دستیاب تمام ہیلی کاپٹرز تعینات کر دیے ، جبکہ نجی ہیلی کاپٹر آپریٹرز کو بھی امدادی کارروائیوں میں شامل کیا گیا ہے ۔ خیموں، پینے کے پانی، خوراک اور پورٹیبل جنریٹرز سے لدے امدادی ٹرک متاثرہ آبادیوں میں روانہ کیے جا رہے ہیں، تاہم سڑکیں تباہ ہونے کے باعث کئی ٹرک نہیں پہنچ پا رہے ۔

نیپال سیلاب 'یو پی کے مہاراج گنج اور خوشی نگر اضلاع میں سخت چوکسی
ندیوں کی سطح آب پر مسلسل نظر ۔ بچاؤ اور امدادی اقدامات کی تیاریاں۔ عوام کے تخلیہ کا بھی امکان

لکھنو 27 اگسٹ ( ایجنسیز ) اترپردیش کے اضلاع مہاراج گنج اور خوشی نگر میں حکام کی جانب سے ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے اور گندک اور دوسری ندیوں کی سطح آب پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ یہاں نیپال سے ہوتے ہوئے پانی کا بہاؤ آسکتا ہے ۔ نیپال آئے خطرناک سیلاب میں سینکڑوںا فراد ہلاک اور ہزاروں افراد لاپتہ بتائے گئے ہیں ۔ اترپردیش میں انتظامیہ کی جانب سے سخت چوکسی برتی جا رہی ہے اور کہا گیا ہے کہ دریاوں کی سطح آب پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ۔ جو گاوں امکانی طور پر متاثر ہوسکتے ہیں ان کو چوکس کردیا گیا ہے اور ریلیف اور بچاؤ ٹیموں کو بھی امکانی سیلابی صورتحال سے نمٹنے تیار رکھا گیا ہے ۔ نیپال میں آئے سیلاب میں کئی اضلاع متاثر ہوئے ہیں اور کئی بستیاں زیر آب آگئی ہیں۔ نیپال کے وزیر خارجہ ششر کھنال نے کہا کہ تقریبا 300 ہندوستانی سیاح لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔ مہاراج گنج ضلع میں سینئر عہدیداروں بشمول اڈیشنل ضلع مجسٹریٹ پرشانت کمار کو امکانی متاثر ہونے والے علاقوں میں متعین کردیا گیا ہے تاکہ وہ گندک ' درجنیا ' ٹیل فال اور دوسری دریاوں کے پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھ سکیں اور نیپال سے آنے والے پانی کے راستوں کا جائزہ لیتے رہیں۔ عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ چوکسی برتیں اور بچاؤ اقدامات کی تیاری کریں تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر نمٹا جاسکے ۔ دریاؤں کے کنارے والے گاووں اور نشیبی علاقوں پر خاص طور پر نگرانی کی جا رہی ہے اور مقامی عوام کے تخلیہ کی بھی تیاریاں کرلی گئی ہیں۔ مسٹر کمار نے بتایا کہ انتظامیہ پوری طرح تیار ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیرضروری طور پر دریاوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری طور پر دئے جانے والے مشوروں پر عمل کریں۔ پڑوسی ضلع خوشی نگر میں انتظامیہ نے گندک ( نارائنی ) ندی کی سطح آب میں اضافہ کے پیش نظر تیاریوں میں تیزی پیدا کردی ہے ۔ ضلع مجسٹریٹ مہیندر سنگھ تنور نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کیشو کمار کے ساتھ دریا کے کنارے بسے گاووں کا دورہ کیا اور والمیکی بیاریج کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے مقامی عوام سے اپیل کی کہ وہ چوکس رہیں اور دریا سے دور ہی رہیں۔ عوام سے نشیبی علاقوں کے قریب جانے سے بھی احتیاط کرنے کو کہا گیا ہے ۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu