Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
بیف کیس میں گرفتار 70 سالہ ظہیر شیخ کی پولیس حراست میں موت

بیف کیس میں گرفتار 70 سالہ ظہیر شیخ کی پولیس حراست میں موت

سیاست 1 hr ago

گجرات احمد آباد میں گرفتار کیا گیا تھا ۔افراد خاندان نے پولیس ایذا رسانی کا الزام عائد کیااحمد آباد: 21 مئی:(ایجنسیز)گجرات احمد آباد میں 500 کیلو بیف کیس میں گرفتار 70 سالہ ظہیر شیخ پولیس حراست میں اسپتال میں دم توڑ گئے، جس کے بعد تحویل میں تشدد کے الزامات نے معاملے کو سنگین بنا دیا ہے۔ واقعہ کے خلاف اسپتال کے باہر احتجاج بھی کیا گیا ۔ ظہیر شیخکو جو احمد آباد جوہاپورا کے رہائشی تھے، ویجالپور پولیس اسٹیشن نے 18 مئی کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف دفعہ 325 اور حیوانی تحفظ قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے 5 مئی کو جوہاپورا کے کھلے میدان سے تقریباً 520 کلو مشتبہ گوشت، ایک زندہ بچھڑا، گاڑیاں اور دیگر سامان برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس وقت ظہیر شیخ فرار ہوگئے تھے، تاہم بعد میں انہیں گرفتار کیا گیا ۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی، جسے ان کے بیٹے توفیق شیخ نے ریکارڈ کیا تھا۔ ویڈیو میں ظہیر شیخ نے الزام لگایا کہ پولیس نے انہیں حراست میں مارا پیٹا، داڑھی کھینچی، جسم کے حساس حصوں پر تشدد کیا اور رقم کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایک کانسٹیبل اکشے کا نام لیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ظہیر شیخ نے دواخانہ میں زیر علاج رہ کر کئی پولیس اہلکاروں کے نام لیے تھے۔ خاندان کے وکیل نعمان گھانچی نے کہا کہ خراب صحت کے باوجود ظہیر شیخ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ پوچھ گچھ کے دوران انہیں مشتبہ مشروب پلایا گیا۔ توفیق شیخ نے احمد آباد پولیس کمشنر جی ایس ملک کو شکایت دے کر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ اے سی پی اے بی والانڈ کے مطابق ظہیر شیخ کی طبیعت اس وقت بگڑی جب انہوں نے اپنی اہلیہ کی لائی گئی دوا استعمال کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں آئی سی یو میں علاج جاری تھا ۔ پولیس نے کہا کہ ابتدائی فارنسک پوسٹ مارٹم میں تشدد کے نشانات نہیں ملے۔ حکام کے مطابق پنچنامہ و پوسٹ مارٹم کارروائی مجسٹریٹ کی موجودگی میں ویڈیو ریکارڈنگ کے ساتھ کی گئی۔ پولیس نے کہا کہ ظہیر شیخ ذیابیطس کے مریض تھے اور حادثاتی موت کی تحقیقات عدالتی مجسٹریٹ سے کی جائیں گی۔ یہ معاملہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا ہے کیونکہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں جن میں اسی مویشی ذبیحہ کیس کے ملزمان کو ویجالپور کے سونل سنیما روڈ کے قریب پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں عوامی مقام پر مارا پیٹا جاتا دکھایا گیا تھا۔ظہیر شیخ کی موت کے بعد اسپتال کے باہر کشیدگی دیکھی گئی جہاں مظاہرین نے اہلکاروں کے خلاف کارروائی و آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu