سراجیو 27 اگسٹ ( ایجنسیز ) بوسنیائی سرب فوج کا سابق سربراہ راٹکو ملاڈک فوت ہوگیا ۔ 1995 میں سربرینکا کے قتل عام میں راٹکو ملاڈک کے رول کی وجہ سے اسے بوسنیا کا قصائی کہا جاتا تھا ۔ سربیائی کے سرکاری ٹی وی نے ایک رپورٹ میں یہ اطلاع دی اور کہا کہ راٹکو ملاڈک ہلاک ہوچکا ہے ۔ ملاڈک کو حالیہ عرصہ میں کئی مرتبہ دل کا دورہ پڑا تھا ۔ وہ ہیگ میں ہوئے نسل کشی ' جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا ۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اپنی نگرانی میں سربرینکا قتل عام کی نگرانی کی تھی ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے سربرینکا قتل عام کو یوروپ کا سب سے خطرناک خونی کھیل کہا جاتا تھا ۔ راٹکو ملاڈک کی عمر 84 سال عمر تھی ۔ وہ نیدر لینڈ میں اقوام متحدہ کی جیل کے دواخانہ میں شریک تھا ۔ ملاڈک کے افراد خاندان نے بھی اس کی موت کی توثیق کی ہے اور بتایا کہ راٹکو ملاڈک کا بیٹا ڈارکو ملاڈک ہیگ جانے کیلئے روانہ ہوگیا ہے ۔ ملاڈک پر 8000 بوسنیاک ( بوسنیائی مسلمانوں ) کے قتل کا الزام تھا ۔ اسے 2017 میں جنگی جرائم کی پاداش میں خاطی قرار دیا گیا تھا اور وہ جیل میں اپنے آخری ایام گذار رہا تھا ۔ اقوام متحدہ کے سابق حقوق انسانی سربراہ زید رعد الحسین نے اسے برائی کا مرکز قرار دیا تھا ۔

