Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
بی آر ایس حکومت میں 8.21 لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کیا گیا: بھٹی وکرمارکا

بی آر ایس حکومت میں 8.21 لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کیا گیا: بھٹی وکرمارکا

سیاست 2 weeks ago

کے سی آر سے بیان دینے کا مطالبہ، کانگریس قرض کو معہ سود ادا کر رہی ہے: ڈپٹی چیف منسٹر کا بیانحیدرآباد ۔3 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے بی آر ایس دور حکومت میں قرض کے حصول پر سابق چیف منسٹر کے سی آر سے جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ سکریٹریٹ میں ریاستی وزراء پونم پربھاکر اور لکشمن کمار کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں جملہ 8.21 لاکھ کروڑ قرض حاصل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر اور ہریش راؤ قرض کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ وہ اعداد و شمار کے ساتھ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ بی آر ایس دور حکومت میں 8.21 لاکھ کروڑ قرض حاصل کیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں کے سی آر کو جواب دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قرض کے بارے میں کے سی آر اور ہریش راؤ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ وزیر فینانس کی حیثیت سے کام کرنے والے ہریش راؤ کی جانب سے گمراہ کن بیان باعث حیرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین حکومت کی فلاحی اسکیمات میں رکاوٹ پیدا کرنے کیلئے ریاست کے بجٹ کو ناقابل عمل قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشیل میڈیا کے ذریعہ ریاست کے معاشی موقف کے بارے میں گمراہ کن اطلاعات پھیلائی جارہی ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کی جانب سے حاصل کردہ قرض کو سود کے ساتھ کانگریس حکومت ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازعہ میں کے سی آر کو وضاحت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد معاشی موقف پر وائیٹ پیپر جاری کیا گیا تھا ۔ کے سی آر حکومت کے قرض پر دو لاکھ 8 ہزار کروڑ سود ادا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف تین لاکھ کروڑ قرض حاصل کرنے کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ بی آر ایس نے 10.5 فیصد سود کے ساتھ قرض حاصل کیا تھا اور کانگریس حکومت نے سود کی رقم کو 7.5 فیصد کم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ بھٹی وکرمارکا نے بی آر ایس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ گمراہ کن بیانات کے بجائے کے سی آر کو قرض پر تبصرہ کرنے کی ترغیب دیں کیونکہ بحیثیت چیف منسٹر وہ قرض کے بارے میں اچھی طرح واقف ہیں۔ کانگریس قائدین اس مسئلہ پر صرف کے سی آر سے بحث کرنے تیار ہیں۔1/k

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu