Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
تلنگانہ میں SIR مہم پر کانگریس کو شبہات ، چیف الیکٹورل آفیسر سے نمائندگی

تلنگانہ میں SIR مہم پر کانگریس کو شبہات ، چیف الیکٹورل آفیسر سے نمائندگی

سیاست 1 week ago

فہرست پر نظرثانی کا عمل دیڑھ تا دو سال میں مکمل کیا جائے، عجلت میں کارروائی سے عوام کو نقصانحیدرآباد ۔15۔ مئی (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ کی قیادت میں کانگریس قائدین کے ایک وفد نے چیف الیکٹورل آفیسر سدرشن ریڈی سے ملاقات کی اور تلنگانہ میں فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی مہم SIR کے شیڈول پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نظرثانی کا عمل عجلت میں مکمل نہ کرنے کی خواہش کی۔ مہیش کمار گوڑ کے ہمراہ وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر ، ارکان پارلیمنٹ سی ایچ کرن کمار ریڈی ، انیل کمار یادو ، ارکان اسمبلی نوین یادو ، سری گنیش ، کے ستیہ نارائنا اور الیکشن کمیشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے صدرنشین راجیش کمار وفد میں شامل تھے۔ الیکشن کمیشن سے اپیل کی گئی کہ فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کا عمل مکمل شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ انجام دیا جائے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ 2002 میں آخری مرتبہ فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کی گئی تھی اور تقریباً 25 سال بعد دوبارہ یہ کام شروع کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں آخری مرتبہ نظرثانی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں رائے دہندوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لہذا نظرثانی کا عمل انتہائی چوکسی اور مرحلہ وار طور پر ہونا چاہئے ۔ عجلت میں نظرثانی کے نتیجہ میں کئی نام فہرست سے حذف ہوسکتے ہیں۔ کانگریس قائدین نے نظرثانی کا عمل تقریباً دیڑھ تا دو سال میں مکمل کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں کوئی اہم الیکشن نہیں ہے ، لہذا الیکشن کمیشن کو زائد وقت میں یہ کام مکمل کرنا ہوگا۔ چیف الیکٹورل آفیسر کو بتایا گیا کہ تلنگانہ میں ایک طرف مردم شماری کا کام جاری ہے ، ایسے میں ایس آئی آر مہم کے نتیجہ میں عہدیداروں اور ملازمین پر بوجھ میں اضافہ ہوگا۔ کانگریس پارٹی نے مسلمہ سیاسی پارٹیوں کو 2002 اور 2025 کی فہرست رائے دہندگان کی سافٹ اور ہارڈ کاپی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ سیاسی پارٹیوں کے ایجنٹس فہرست میں ناموں کی شمولیت کی مساعی کرسکیں۔ انہوں نے بوتھ لیول عہدیداروں اور ایجنٹس کی کارکردگی میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔ کانگریس قائدین نے ماقبل ایس آئی آر میاپنگ کے کام میں مبینہ بے قاعدگیوں کی شکایت کی اور کہا کہ بی ایل اوز گھر گھر پہنچ کر جانچ کے بجائے مقامی سیاسی قائدین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ میاپنگ کا کام مکمل جانچ کے بغیر انجام دیا جارہا ہے ۔ چیف الیکٹورل آفیسر سے اس معاملہ کی جانچ اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ۔ کانگریس قائدین نے ناموں کی بڑے پیمانہ پر کٹوتی کے لئے فارم 7 کے بیجا استعمال کا اندیشہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر مہم کے سلسلہ میں کمزور طبقات میں شعور بیداری مہم کی ضرورت ہے۔ پانچ صفحات پر مشتمل یادداشت میں مختلف تجاویز پیش کرتے ہوئے فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کا عمل دیڑھ تا دو سال میں مکمل کرنے کی تجویز پیش کی۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں کی طرح تلنگانہ میں فہرست رائے دہندگان سے بڑے پیمانہ پر ناموں کو حذف کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔1/k/m/b

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu