بھوپال - مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے جمعہ کو متنازعہ بھو ج شالہ-کمال مولا مسجد کمپلیکس سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مقام دراصل دیوی سرسوتی سے منسوب ایک قدیم مندر ہے۔
جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس الک اوستھی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے مشاہدہ کیا کہ تاریخی شواہد اور ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ راجہ بھوج کے دور میں اس مقام پر سنسکرت تعلیم کا مرکز اور دیوی سرسوتی کا مندر موجود تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ "اس مقام پر ہندو عبادت کی تسلسل کبھی ختم نہیں ہوئی۔"
عدالت نے قرار دیا کہ متنازعہ مقام کی مذہبی حیثیت بھوج شالہ کی ہے اور اس کے تاریخی طور پر سنسکرت تعلیم اور ہندو عبادت سے روابط ثابت ہوتے ہیں۔
بینچ نے یہ بھی کہا کہ یہ یادگار قدیم آثار کے تحفظ کے قانون کے تحت محفوظ ہے اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کو اس کے تحفظ اور نگرانی کا عمل جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عدالت نے ساتھ ہی اے ایس آئی کی رپورٹ پر مکمل انحصار کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ مکمل طور پر اعتماد پیدا نہیں کرتی، تاہم اس میں پیش کئے گئے کئی تاریخی شواہد کو قبول کیا گیا۔
تنازعہ میں ہندو فریق کا مؤقف ہے کہ بھوج شالہ دیوی واغ دیوی (سرسوتی) کا قدیم مندر ہے جسے راجہ بھوج نے تعمیر کیا، جبکہ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ یہ مقام صدیوں سے کمال مولا مسجد کے طور پر استعمال ہوتا آیا ہے۔
عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ مسلم کمیونٹی چاہے تو دھار ضلع میں مسجد کی تعمیر کے لیے ریاستی حکومت سے مناسب زمین کی درخواست کر سکتی ہے، اور حکومت قانون کے مطابق اس پر غور کر سکتی ہے۔
عدالت نے 2003 کے اُس انتظامی حکم کو بھی کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت جمعہ کو مسلمانوں کو نماز اور منگل کو ہندوؤں کو پوجا کی اجازت دی گئی تھی۔ہائی کورٹ نے ریاستی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ عبادت کے انتظامات اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔
اس سے قبل عدالت نے مارچ 2024 میں اے ایس آئی کو اس مقام کا سائنسی سروے کرنے کا حکم دیا تھا، جو 98 دن تک جاری رہا اور بعد ازاں 2000 صفحات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔
ہندو درخواست گزاروں کے مطابق سروے میں مجسمے، کتبے، تعمیراتی باقیات اور سکے ملے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں پہلے مندر موجود تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ ڈھانچے کے کچھ حصے پرانے مندر کے ملبے سے تعمیر کیے گئے۔
مسلم فریق نے اس رپورٹ کو جانبدار قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے اس فیصلے کو "تاریخی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے عبادت کا حق بحال کیا ہے اور اے ایس آئی کے پہلے حکم کو بھی کالعدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے دیوی سرسوتی کی مورتی کی واپسی سے متعلق حکومت سے رجوع کرنے کے عدالتی مشورے کا بھی خیر مقدم کیا۔مسلم فریق نے کہا ہے کہ وہ فیصلے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد آئندہ قانونی حکمت عملی طے کرے گا۔

