حیدرآباد، 21 مئی: تلنگانہ ہائی کورٹ کی تعطیلاتی بنچ نے جمعرات کے روز محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی جانب سے ورکنگ جرنلسٹس کے ایکریڈیٹیشن کارڈز کی تجدید اور توسیع میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ یہ معاملہ ایک بار پھر عدالت کے سامنے اس وقت آیا جب تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن نے عدالت کو مطلع کیا کہ حکومت کی جانب سے متعدد یقین دہانیوں کے باوجود تجدید کا عمل اب تک مکمل نہیں کیا گیا ہے۔
اس سے قبل 14 مئی کو بھی اس معاملے کی سماعت ہوئی تھی، جس کے دوران فیڈریشن نے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی کہ ریاست بھر کے منظور شدہ صحافی، ایکریڈیٹیشن کارڈز کی تجدید نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جمعرات کی سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ میڈیا ایکریڈیٹیشن کارڈز کی مدت 16 جون 2026 تک بڑھا دی جائے گی اور اس ضمن میں احکامات شام تک جاری کر دیے جائیں گے۔
*عدالت کا سابقہ یقین دہانی کے باوجود تاخیر پر سوال*
سماعت کے دوران فریقِ مخالف نے عدالت کو بتایا کہ توسیع کے لیے صحافیوں کی فہرست درخواست گزاروں سے طلب کی گئی ہے۔ اس پر عدالت نے واضح کیا کہ یہ معاملہ صرف درخواست گزاروں تک محدود نہیں بلکہ پوری صحافتی برادری سے متعلق ہے، اس لیے صرف درخواست گزاروں سے فہرست طلب کرنا مناسب نہیں۔
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ متعلقہ حکام پہلے ہی ڈویژن بنچ کے سامنے یہ یقین دہانی کرا چکے تھے کہ توسیع کا عمل 31 مئی 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا، بعد ازاں عدالتی ہدایات کے تحت اس مدت کو 16 جون 2026 تک بڑھایا گیا۔ عدالت نے حکام کو ہدایت دی کہ عدالت میں دی گئی یقین دہانی اور عدالتی احکامات کے مطابق فوری طور پر ایکریڈیٹیشن کارڈز کی توسیع کی جائے۔
*صحافیوں کو شدید عملی دشواریوں کا سامنا*
تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن اور دیگر نے جی او 252 اور اس میں کی گئی ترامیم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ درخواست گزاروں نے حکومتی حکم نامے کے نفاذ اور ورکنگ جرنلسٹس کے ایکریڈیٹیشن کارڈز کے اجراء کے طریقہ کار میں مبینہ بے ضابطگیوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
فیڈریشن کی جانب سے ایڈووکیٹ برکت علی خان نے عدالت میں نمائندگی کی۔ عدالت نے دریافت کیا کہ کیا ایکریڈیٹیشن کارڈز کی توسیع نہ ہونے سے صحافیوں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس پر ایڈووکیٹ برکت علی خان نے عدالت کو بتایا کہ کارڈز کی تجدید میں تاخیر کے باعث صحافیوں کو عملی سطح پر شدید مسائل کا سامنا ہے اور وہ خبروں کی کوریج کے لیے سرکاری دفاتر، سیکریٹریٹ، سرکاری اجلاسوں، پریس بریفنگز اور دیگر مقامات تک باآسانی رسائی حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔
انہوں نے دلیل دی کہ اس تاخیر سے صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں متاثر ہو رہی ہیں اور یہ اظہارِ رائے، آزادیٔ صحافت اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے متعلقہ حکام پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ بارہا یقین دہانیوں کے باوجود توسیع کا عمل کیوں مکمل نہیں کیا گیا۔
ہائی کورٹ کی جانب سے اس معاملے اور جی او 252 سے متعلق درخواستوں کی مسلسل نگرانی جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس کیس کی آئندہ سماعت 16 جون 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔

