نئی دہلی - سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز 2020 دہلی فساد سازش کیس میں سماجی کارکن خالد سیفی اور شریک ملزم تسلیم احمد کو عبوری ضمانت دے دی، جبکہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون یو اے پی اے (UAPA) کے تحت ضمانت سے متعلق اہم قانونی سوالات کو بڑی بنچ کے سپرد کردیا۔
جسٹس اروند کمار اور جسٹس پرسنا بی ورالے پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ یو اے پی اے کے تحت ضمانت کے اصولوں، خاص طور پر طویل عرصہ تک مقدمہ مکمل نہ ہونے کی صورت میں قید کے معاملات پر عدالتی وضاحت کی ضرورت ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مختلف فیصلوں، خصوصاً کے اے نجیب کیس کی تشریح میں مختلف بنچوں کے درمیان "اختلافِ رائے کا تاثر" پایا جاتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت شخصی آزادی کے تحفظ اور یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) کے تحت عائد پابندیوں کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ کے اے نجیب فیصلہ اب بھی مؤثر اور اہم آئینی تحفظ کی حیثیت رکھتا ہے، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں ملزم طویل عرصہ تک جیل میں رہے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلے سے یو اے پی اے کی قانونی پابندیاں ختم نہیں ہوتیں اور عدالتوں کو ضمانت کی درخواستوں کا قانونی دائرے میں رہتے ہوئے باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔
اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انسانی حقوق تنظیم کے لیڈر ندیم خان نے کہا کہ "خالد سیفی کو فی الحال چھ ماہ کی عبوری ضمانت ملی ہے، امید ہے کہ یہ برقرار رہے گی

