حیدراباد : تلنگانہ کے ضلع وقارآباد کے تانڈور ریلوے اسٹیشن پر انسانیت، ہمدردی اور بروقت مدد کی ایک ایسی مثال سامنے آئی جس نے ہر سننے والے کو جذباتی کردیا۔ رات کے سناٹے میں پلیٹ فارم پر دردِ زہ سے تڑپتی ایک خاتون کیلئے مقامی نوجوان مصطفیٰ مسیحا بن کر سامنے آیا اور اپنے آٹو رکشہ کے ذریعہ ماں اور نومولود بچی کو محفوظ طور پر ہاسپٹل پہنچا کر انسانیت کا حق ادا کردیا۔
مقامی افراد کے مطابق تانڈور منڈل کے جنوگرتی گاؤں سے تعلق رکھنے والی حاملہ خاتون کو چند دن قبل زچگی کے درد کے باعث تانڈور کے سرکاری منتقل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں خاتون کو دورے پڑنے کے سبب بہتر علاج کیلئے حیدرآباد کے گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے بعد وہ ہفتہ کی شب واپس تانڈور ریلوے اسٹیشن پہنچی۔
ذرائع کے مطابق خاتون رات بھر ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ہی موجود رہی۔ اسی دوران اچانک دوبارہ شدید دردِ زہ شروع ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے خاتون نے پلیٹ فارم پر ہی ایک صحت مند بچی کو جنم دیا۔ یہ منظر دیکھ کر وہاں موجود مسافر اور مقامی افراد گھبرا گئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ فوری طور پر 108 ایمبولینس سروس کو فون کیا گیا، مگر کافی دیر تک کوئی امدادی گاڑی موقع پر نہیں پہنچی۔ ایسے نازک وقت میں تانڈور کے نوجوان مصطفیٰ نے بغیر کسی تاخیر کے انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آٹو کو پلیٹ فارم تک لایا اور ماں اور نومولود بچی کو رات تقریباً دو بجے بحفاظت ہاسپٹل منتقل کردیا۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر مصطفیٰ بروقت مدد کیلئے آگے نہ آتا تو ماں اور بچی کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ لوگوں نے مصطفیٰ کے اس جذبۂ انسانیت اور ہمدردی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

