حیدرآباد، 27 /جون: تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (ٹی پی سی سی) کے صدر اور ایم ایل سی مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز) ہندوستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ریاستی حکومت و آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) اس شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں تاکہ روزگار کے مواقع بڑھیں اور معاشی عدم مساوات کم ہو۔
وہ آل انڈیا پروفیشنلز کانگریس (اے آئی پی سی)، تلنگانہ ایم ایس ایم ای ورٹیکل کے زیر اہتمام ورلڈ ایم ایس ایم ای ڈے کے موقع پر میڈیا پلس آڈیٹوریم، گن فاؤنڈری، حیدرآباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ ایم ایس ایم ایز کا فروغ کانگریس کی معاشی پالیسی کا اہم حصہ رہا ہے اور 2019 میں پارٹی نے اس شعبے پر خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے کہا کہ ایشیائی ممالک میں ایم ایس ایم ایز 60 فیصد سے زائد روزگار فراہم کرتی ہیں جبکہ عالمی جی ڈی پی میں تقریباً 50 فیصد حصہ رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں زیادہ تر کاروبار تین سے پانچ افراد پر مشتمل چھوٹے اداروں پر منحصر ہیں، اس لیے مزید ایم ایس ایم ایز کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ دولت چند ہاتھوں تک محدود نہ رہے اور معاشی مساوات کو فروغ مل سکے۔انہوں نے بھارت جوڑو یاترا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عوامی مسائل کو سمجھنے میں مدد ملی، جبکہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کی جانب سے کرائی گئی ذات پر مبنی مردم شماری کو تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1931 کے بعد پہلی بار اس سے پسماندہ طبقات کی حقیقی صورتحال سامنے آئی ہے، جس کی بنیاد پر مؤثر فلاحی منصوبے تیار کیے جا سکیں گے۔
مہیش کمار گوڑ نے خواتین کی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے اندرا گاندھی، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ آج خواتین ہوا بازی، انجینئرنگ، سائنس اور دیگر شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو خاتون وزیر اعظم اور خاتون صدر مل چکی ہیں، جو ملک کی خواتین کی ترقی کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت 200 یونٹ مفت بجلی، معیاری چاول کی فراہمی، کسانوں کے قرضوں کی معافی اور نئے راشن کارڈ جاری کرنے جیسے فلاحی اقدامات کے ساتھ ساتھ مزید ایم ایس ایم ایز کے فروغ کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
یونیسف تلنگانہ کے سربراہ ڈاکٹر زیلالمان تافیسے نے نوجوانوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی معیشت کے لیے جدید، اختراعی اور پائیدار ایم ایس ایم ایز کی تعمیر ناگزیر ہے۔ترکیہ کے قونصل خانے کی کمرشل اتاشی محترمہ توگچے گل نے کہا کہ ایم ایس ایم ایز ہر معیشت کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 7.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس میں پیٹرولیم مصنوعات، ماربل، کیمیکلز، سبز سیب، ہیزل نٹس اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 14 ترک کمپنیاں ہندوستان میں سرگرم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
فیڈریشن آف تلنگانہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف ٹی سی سی آئی) کی سینئر ڈائریکٹر و ڈپٹی سی ای او محترمہ ٹی سجاتا نے کہا کہ خواتین اپنی آمدنی کا تقریباً 90 فیصد خاندان کی تعلیم، صحت اور فلاح پر خرچ کرتی ہیں، تاہم خواتین کی قیادت والے اسٹارٹ اپس کو صرف دو فیصد وینچر کیپیٹل فنڈنگ حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے خواتین کاروباری افراد کے لیے مزید مالی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
کنفیڈریشن آف ایم ایس ایم ایز، تلنگانہ کے چیئرمین پی سرینواس نے کہا کہ ایم ایس ایم ایز دیہی اور شہری علاقوں میں نوجوانوں کے لیے بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے خواتین صنعت کاروں کے لیے 50 لاکھ روپے تک کی حکومتی ترغیبات کا خیرمقدم کیا۔اے آئی پی سی کے سابق چیپٹر صدر عرفان عزیز نے کہا کہ ہندوستان کا مستقبل ایسے ایم ایس ایم ایز سے وابستہ ہے جو مقامی مسائل کا عالمی معیار کے مطابق حل پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 6.3 کروڑ سے زائد ایم ایس ایم ایز تقریباً 30 فیصد جی ڈی پی، 45 فیصد برآمدات میں حصہ ڈالتی ہیں اور 11 کروڑ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔
تقریب کی نظامت ششنک پاسوپلیٹی، ریاستی کنوینر، اے آئی پی سی تلنگانہ ایم ایس ایم ای ورٹیکل نے انجام دی، جبکہ ڈپٹی ہیڈ عبداللہ بکران سمیت صنعت، تجارت اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز افراد نے شرکت کی۔

