Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
عوام آشیرواد دیں، مودی، کے سی آر اور ریونت ریڈی سے مقابلہ کروں گی؛ پنچایت سے پارلیمنٹ تک مسلم خواتین کی نمائندگی میرا خواب ہے

عوام آشیرواد دیں، مودی، کے سی آر اور ریونت ریڈی سے مقابلہ کروں گی؛ پنچایت سے پارلیمنٹ تک مسلم خواتین کی نمائندگی میرا خواب ہے

Urdu Leaks 7 hrs ago

عوام آشیرواد دیں، مودی، کے سی آر اور ریونت ریڈی سے مقابلہ کروں گی؛ پنچایت سے پارلیمنٹ تک مسلم خواتین کی نمائندگی میرا خواب ہے

نارائن پیٹ:20 ستمبر (اردو لیکس/محمد صادق چاند) تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کے کویتا نے کوڑنگل اسمبلی حلقہ کے کوسگی میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں بہوجن راج قائم کرنا ہے تو کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہوگا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انہیں آشیرواد دیں تاکہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی، سابق چیف منسٹر کے.

چندرشیکھر راؤ اور موجودہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے خلاف سیاسی جدوجہد کرسکیں۔ کویتا نے محبوب نگر ضلع کے عوام کو پی سائنا، طرہ باز خان اور رانی لکشمی بائی جیسے مجاہدین کے وارث قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے مسائل کے حل اور سماجی انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گی

۔ انہوں نے کہا کہ پنچایت سے پارلیمنٹ تک مسلم خواتین سمیت تمام طبقات کی آبادی کے تناسب سے سیاسی نمائندگی ان کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت کے دور میں نوجوانوں کو روزگار، کسانوں کو پانی، یوریا، بجلی اور امدادی قیمت کے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق تلنگانہ ریاست کے قیام کے باوجود نوجوانوں کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر گاؤں میں بہتر اسکول اور ہر جماعت کے لیے استاد کی دستیابی یقینی بنائی جانی چاہیے

۔ کویتا نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کی صورتحال پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ گروکل اسکولوں میں فوڈ پوائزننگ کے واقعات اور سرکاری اسپتالوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں ہر بچے کو مفت تعلیم اور عوام کو معیاری علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت ذمہ داری لے گی۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے کاروباری مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نوجوانوں کے کاروباری آئیڈیاز کی حوصلہ افزائی کرے گی اور ضرورت کے مطابق دو لاکھ سے 20 کروڑ روپے تک قرض فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کسانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ محبوب نگر ضلع میں کاگنا، تنگبھدرا اور کرشنا جیسی ندیاں موجود ہونے کے باوجود کئی علاقوں میں پانی کی قلت برقرار ہے۔

.انہوں نے جورالہ سے پانی کے استعمال اور پالمورو کے کسانوں کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے کسانوں کے مسائل فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں جورالہ سے پانی حاصل کرکے ابراہیم پٹنم تک لاکھوں ایکڑ اراضی کو آبپاشی فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کویتا نے ریاست میں سماجی انصاف اور سیاسی نمائندگی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے مدیراج، مسلمانوں، نیتنّا، گیتنّا، مادیگا، مالا اور دیگر پسماندہ طبقات کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ مسلم خواتین کو سیاست میں زیادہ مواقع فراہم کرنے کو بھی انہوں نے اپنے اہم اہداف میں شامل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو صرف علامتی طور پر عزت دینے کے بجائے انہیں فیصلہ سازی اور اقتدار میں حقیقی مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق وہ ایک خاتون کی حیثیت سے کسی سیاسی سہارے کے بغیر آگے بڑھنے اور اپنی سیاسی جدوجہد کو جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ کویتا نے کانگریس حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اقتدار سنبھالے کافی وقت گزر چکا ہے، لیکن عوام کے متعدد مسائل اب بھی برقرار ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بہوجنوں اور نوجوانوں کو زیادہ مواقع فراہم کرنے والی سیاست کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سیاسی جدوجہد کسی ایک فرد یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ سماجی انصاف، نوجوانوں کے مستقبل، خواتین کی نمائندگی اور بہوجنوں کے حقوق کے لیے ہے۔ انہوں نے عوام سے اپنے سیاسی سفر میں تعاون اور آشیرواد کی اپیل کی۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Urdu Leaks