جھانسی (اتر پردیش): اتر پردیش کے ضلع جھانسی میں ایک مصروف ترین سڑک پر زنخوں یعنی تیسری جنس کے افراد کے ایک گروہ نے زبردست ہنگامہ برپا کر دیا۔ گروہ نے سڑک پر بیریکیڈز لگا کر راستہ بند کر دیا اور نیم برہنہ ہو کر احتجاج کیا۔
اس دوران وہاں سے گزرنے والے گاڑی سواروں پر حملے کیے اور انہیں گالیاں بھی دیں۔اس واقعے کے باعث علاقے میں شدید ٹریفک جام ہو گیا۔ اطلاع ملتے ہی نواب آباد پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں لانے کی کوشش کی لیکن مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو بھی دھکے دیے
اور ان کی سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالی۔اس تنازعے کی اصل وجہ چند روز قبل ٹرانس جینڈر افراد کے دو گروہوں کے درمیان علاقوں کی تقسیم کو لے کر پیدا ہونے والا اختلاف تھا۔21 اکتوبر کو کوچہ بھنور علاقے میں دونوں گروہوں کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد وہ پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔
اس دوران ایک شخص نے خودکشی کی کوشش کی جس کے باعث امن و امان کی صورتِ حال بگڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس نے تین افراد کو گرفتار کیا اور انہیں عدالت میں پیش کیا۔ان گرفتاریوں کے خلاف ہفتے کے روز اس گروہ کے افراد سڑک پر نکل آئے
اور برہنہ مظاہرہ کرتے ہوئے شدید ہنگامہ آرائی کی۔پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے الزامات کے تحت پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مقامی علاقے میں کافی ہلچل مچ گئی۔
