نیہ دہلی: پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں فوجی اہلکاروں اور ان کے افراد خاندان کو لے جانے والی ٹرین پر ہونے والے زور دار دھماکے میں کم از کم 24 افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔
حکام کے مطابق یہ دھماکہ کوئٹہ میں اس وقت پیش آیا جب بارود سے بھری ایک گاڑی ٹرین کے ڈبے سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور ٹرین کو شدید نقصان پہنچا۔اطلاعات کے مطابق فوجی اہلکار اپنے افراد خاندان کے ساتھ عید منانے کیلئے سفر کررہے تھے کہ اسی دوران یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
دھماکے کے بعد جائے حادثہ پر چیخ و پکار مچ گئی جبکہ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر راحت و بچاؤ کارروائیاں شروع کردیں۔واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع سے سامنے آنے والی تصاویر میں ٹرین کی تباہ شدہ بوگیاں اور ریسکیو آپریشن واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔
بلوچستان میں ریلوے اسٹیشن کے قریب پیش آئے دھماکے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل اے) نے قبول کرلی ہے۔ تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ نے دعویٰ کیا کہ حملے کا نشانہ وہ ٹرین تھی جو کوئٹہ کینٹونمنٹ سے پاکستانی فوجی اہلکاروں کو لے جارہی تھی۔
دریں اثنا، بی ایل اے سے وابستہ خاتون شیناز بلوچ نے ایک ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا کہ پاکستانی حکمران بلوچ عوام کو دبانے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کی ثقافت، شناخت اور حقوق کو پامال کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ظلم کا شکار ہر بلوچ اپنی مادرِ وطن کی آزادی کیلئے جان قربان کرنے کیلئے تیار ہے۔ دوسری جانب پاکستانی حکام نے واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

