Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
گنگا ندی میں افطار پارٹی کیس:دو ماہ بعد 8 نوجوانوں کی ضمانت منظور

گنگا ندی میں افطار پارٹی کیس:دو ماہ بعد 8 نوجوانوں کی ضمانت منظور

Urdu Leaks 1 week ago

لکھنو - اترپردیش کی الہ آباد ہائی کورٹ نے وارانسی بوٹ افطار پارٹی کیس میں گرفتار 14 مسلم نوجوانوں میں سے 8 کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس راجیو لوچن شکلا اور جسٹس جیتندر کمار سنہا نے الگ الگ سماعتوں میں سنائے۔

ضمانت حاصل کرنے والوں میں محمد آزاد علی، محمد تحسیم، نہال آفریدی، محمد توصیف، محمد انس، محمد سمیع، محمد احمد رضا اور محمد فیضان شامل ہیں۔

یہ معاملہ 15 مارچ کو رمضان کے دوران وارانسی میں گنگا ندی کے اندر کشتی پر منعقدہ افطار پارٹی سے متعلق ہے، جس کی ویڈیوز بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ ان ویڈیوز میں نوجوانوں کو افطار کے دوران پھل، سافٹ ڈرنکس اور چکن بریانی کھاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد مقامی بی جے پی اور ہندو تنظیموں نے اس اجتماع پر اعتراض کیا اور کوٹوالی پولیس اسٹیشن میں بی جے پی یوتھ مورچہ کے لیڈر رجات جیسوال کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی۔پولیس نے ایف آئی آر درج ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی 16 مارچ کو تمام 14 افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ "مقدس" گنگا ندی میں کشتی پر غیر سبزی خور کھانا کھانا اور اس کی باقیات پانی میں پھینکنا ہندو مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

ملزمین پر بھارتیہ نیائے سنہیتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جن میں مذہبی منافرت پھیلانے، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے، عوامی نظم و ضبط خراب کرنے اور آبی آلودگی سے متعلق دفعات شامل ہیں، ساتھ ہی واٹر (پریونشن اینڈ کنٹرول آف پولوشن) ایکٹ کی دفعات بھی لگائی گئیں۔

عدالت میں سماعت کے دوران اتر پردیش پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمین نے مبینہ طور پر کشتی بان کو دھمکیاں دے کر کشتی کو دریا کے درمیان لے جانے پر "مجبور" کیا تھا اور یہ واقعہ جان بوجھ کر ویڈیوز بنا کر وائرل کیا گیا تاکہ ایک خاص پیغام دیا جا سکے۔

تاہم ملزمین کے وکلاء نے ان الزامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور سیاسی طور پر متاثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف رمضان میں افطار کی ایک تقریب تھی جس میں کوئی سنگین جرم نہیں کیا گیا۔

بقیہ 6 ملزمان اب بھی جیل میں ہیں اور ان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 18 مئی کو متوقع ہے۔زیادہ تر ملزمین وارانسی کے علاقے مَدَن پورہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی عمریں 19 سے 25 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔ ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد نوجوانوں کو سیاسی دباؤ کے تحت نشانہ بنایا گیا۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Urdu Leaks