
از قلم: ارم ناز (کھنڈہ،صوابی)
عورت اس کائنات کی سب سے پیاری مخلوق جسے اللّه تعالیٰ نے بہت پیار، نرمی اور رازدارنہ طریقے کے ساتھ تخلیق فرمایا کہ اس کی تخلیق کے مراحل فرشتوں نے بھی نہیں دیکھے۔اللّه تعالیٰ نے عورت کو مرد کی پسلی سے پیدا کیا تاکہ یہ مرد کے دل کے قریب رہے۔اللّه تعالیٰ نے عورت کو ماں جیسے باعزت اور انمول مرتبے پر فائز فرمایا اور جنّت کو اس کے قدموں تلے بچھا دیا۔اسے بہت ہی خوبصورت رشتوں سے نواز کر اس کی قدر و قیمت مزید بڑھا دی۔اسے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی جیسے رشتوں سے منسلک کر کے اس کے مقام کو عرش بریں پر پہنچا دیا۔یہ اگر ماں ہے تو اپنی اولاد کی جنّت ہے۔ یہ اگر بیٹی ہے تو اپنے والد کا مان ہے۔اگر بہن ہے تو اپنے بھائیوں کی عزت کی رکھوالی ہے اور اگر بیوی ہے تو اپنے شوہر کا آدھا ایمان مکمل کرنے جیسا اعزاز اللّه نے اسے ہی عطا فرمایا ہے۔ یہ سب رشتے عورت کو مکمل کرتے ہیں۔یہی اس کی پہچان بنتے ہیں اور یہی پہچان اس کا فخر ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔
اسلام نے عورت کو بہت اعلی و آرفعہ مقام عطا فرمایا ہے۔اسلام سے پہلے بھی اللّه تعالیٰ نے عورت کو انہی رشتوں کے ساتھ منسلک کیا ہوا تھا لیکن لوگوں میں اس کا شعور اسلام ہی کے ذریعے آیا۔اسلام سے پہلے عورت واقعی میں قابل رحم مخلوق تھی کیونکہ اس دور جہالت میں بیٹیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیا جاتا تھا۔بیواؤں کو ان کے مرے ھوۓ شوہروں کی چتا کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ذرا ذرا سی بات پے عورتوں کو رسوا کر دیا جاتا تھا یا انہیں قتل کر دیا جاتا تھا۔عورت کی حیثیت ایک کنیز، ایک نوکرانی اور ایک باندی سے زیادہ نہ تھی۔اسلام نے انہیں کنیز اور باندی سے ہٹا کر ملکہ بنا دیا۔اسے زمین سے اٹھا کر آسمان پر بٹھا دیا۔اللّه تعالیٰ اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمّد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے لوگوں پر واضع کر دیا کہ عورت کی اصل جگہ اور مقام آسمان کی طرح بلند اور اعلی ہے۔
اسلام نے عورت کو ایک باندی سے ایک آزاد مخلوق کا درجہ دیا۔اسے اظہار راۓ کی اجازت دی۔اسے دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی تاکہ کل کو وہ ایک اچھی اور پائیدار نسل تیار کر سکے اور اگر ضرورت پڑے تو باہر نکل کر عزت دار طریقے سے اپنی اور اپنے بچوں کی کفیل بن سکے۔اسے گھر کا نظام سنمبھالنے کے لئے منتخب فرمایا۔اولاد کی پرورش اور تربیت جیسی بڑی ذمیداری کے لئے اللّه تعالیٰ نے عورت کو ہی اہل جانا۔عورت کی گود کو اولاد کی پہلی درسگاہ قرار دیا گیا۔ان سب باتوں کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو اسلام کی ان شہزادیوں کی قسمت پر رشک کرنے کو دل کرتا ہے جنہیں اس قدر نوازا گیا۔جو اگر اپنے مقام اور مرتبے کو جان جائے تو اللّه تعالیٰ کا شکر ادا کرتے نہ تھکے۔
لیکن افسوس آج کی عورت ان سب باتوں سے بلکل انجان ہے۔وہ ان سب باتوں کو بالاۓ طاق رکھ کر خود کو ارزاں ثابت کرنے کی سرتھوڑ کوششیں جاری رکھے ھوۓ ہیں۔وہ اسلام کی شہزادی جسے حیا اور عزت کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔جس کی تخلیق اللّه تعالیٰ نے رات کو کی تاکہ اس کا پردہ برقرار رہے اور فرشتوں کی بھی اس پر نظر نہ پڑ سکے۔آج وہ سڑکوں اور گلیوں میں اپنی ہی عزتوں کے جنازے 'میرا جسم میری مرضی' کا نعارہ بلند کر کے بڑی دھوم دھام سے نکال رہی ہے اور اس پر فخر محسوس کررہی ہیں۔آج کی عورت آزادی نسواں کی تحریکیں اس لئے چلا رہی ہے تاکہ جو حددود اسلام نے ان کے لئے بناۓ ہیں وہ ان سے آزادی حاصل کر سکے کیونکہ وہ ان حدود کو قید سمجھ رہی ہے۔آج کی عورت ہاتھوں میں بینرز تھامے'اگر ڈوپٹہ اتنا ہی پسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو' جیسے نعارے بلند کر کے خود کو عرياں کررہی ہے۔آج کی عورت چاہتی ہے کہ اسے اس معاشرے میں مرد کے جیسا مقام حاصل ہو جائے وہ یہ نہیں جانتی کہ وہ ہر لحاظ سے مردوں سے بہتر بنائی گئی ہے۔ارے اللّه نے تو عورت کو اتنی طاقت دی ہے کہ وہ مرد کو پیدا کرتی ہے۔اور کیا چاہیے بھلا اسے؟لیکن نہیں آج کی عورت مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کرنے کو، ان کے جیسا پہنے اوڑھنے کو اور ہر حد سے نکل جانے کو آزادی مانتی ہے۔ اسی کو فیمینیزم کا نام دے رہی ہے۔خود کو تماشہ بنا کر، اپنی عزتوں کے جنازے نکالنے کی اس غلیظ مہم کو آزادی نسواں، فیمینیزم، تانیثیت اور پتہ نہیں کیا کیا نام دے رہی ہے۔مگر وہ یہ نہیں سوچ رہی کہ آخر وہ مرد سے آگے نکلنا کیوں چاہتی ہے؟ وہ یہ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کر رہی کہ جب کچھ معاملوں میں اللّه تعالیٰ نے خود ہی مرد کو عورت سے تھوڑا بہتر بنایا ہے اسے گھر کا، اپنے بیوی بچوں کا کفیل بنایا ہے۔اس کو ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط بنایا ہے تاکہ وہ باہر کے سخت حالات کا مقابلہ کر سکے اور اپنے گھر اور گھر والوں کی اچھی طرح کفالت سمیت ان کی حفاظت بھی کر سکے۔تو اس بات کو لے کر سرکش اور باغی بننے کی آخر کیا تک بنتی ہے؟بلکہ اگر اس بارے میں تھوڑی سی سوچ بچار کر لی جائے کہ اللّه تعالیٰ نے اگر مرد کو تھوڑا مضبوط بنایا ہے تو اس کے پیچھے مصلحت کیا ہے؟ کیا آپ کو اس بات کا یقین نہیں کہ اللّه تعالیٰ کے ہر کام میں کویئ نہ کویئ مصلحت چھپی ہوئی ہوتی ہے؟ اگر یقین ہے تو ذرا غور و فکر کرنے کی کوشش کرے نا۔ لیکن نہیں آج کی عورت 'خواتین کے حقوق' کے نام پر نہ جانے کیا کیا مطالبات کررہی ہے۔یقین مانے وہ مطالبات سن کر ایک باضمیر، باحیا اور باعزت عورت شرم سے پانی پانی ہو جائے۔وہ جن پروپیگنڈوں کو خواتین کے حقوق کی تحریک اور فیمینیزم کا نام دے رہی ہے وہ سراسر ایک دھوکہ ہے، ایک چال ہے اور ہمارے ملک کو تباہ کرنے کی سازش ہے، ہمارے مذہب اسلام کو غلط ثابت کرنے کی ایک مہم ہے جن میں ہماری نادان بہنیں بڑھ چڑھ کر حصّہ لے رہی ہیں اور خود کو رسوا کر رہی ہیں۔جب کہ انہیں اس امر پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا فیمینیزم یہی ہے؟کہ آپ خود کو مردوں سے اعلی ثابت کرنے کی دوڑ میں اپنی نسوانیت کو داغدار کر جائے؟'میرا جسم میری مرضی' جیسے واحیات نعارے بلند کر کے خود کو عورت کہلوانے کا حق بھی خود سے چھین رہی ہے۔ارے پہلے اس کا مطلب پتہ کروالیں کہ آخر جس کے لئے آپ لوگ اتنا بڑھ چڑھ کے نعارہ بازی کررہی ہیں وہ ہے کیا؟اگر آپ کو اس سب کی سمجھ آجاۓ نہ تو پھر آپ کے ان احتجاجی ریلیوں کا مقصد شاید ختم ہی ہو جائے۔
ساتھیوں جہاں تک میرا مشاہدہ ہے تو فیمینیزم مردوں کو دبانے کا نام نہیں۔نہ ہی ان کی جگہ حاصل کرنے کا نام ہے۔نہ ہی بے شرمی اور عریاں ہونے کا نام ہے۔بلکہ فیمینیزم خواتین کو ان کے جائز حقوق دینے کا نام ہے۔انہیں ان کی تعلیم و تربیت کی آزادی دینے کا نام ہے۔ان کی عصمتوں کی حفاظت کرنے اور کروانے کا نام ہے۔ ان کی زندگی کو اسلامی طریقوں کے مطابق کرنے کا نام ہے۔ان کو لوگوں کے ظلم اور بے جا پابندیوں سے چھٹکارا دلوانے کا نام ہے۔ان کو ہمارے معاشرے میں وہی مقام دینے اور حاصل کرنے کا نام ہے جو اسلام نے عورتوں کو عطا کیا ہے۔
ذرا سوچئے جس تحریک کا آغاز ہی مغرب جیسے آزادانہ معاشرے سے ہوا جہاں نہ تو اسلام کو مانا جاتا ہے نہ ہی عورت کو ہم جیسی اسلام کی شہزادیوں جیسے حقوق حاصل ہیں۔وہاں کے معاشرے میں عورت کے پاس باپ، بھائی اور بیٹے جیسے رشتے نہیں ہوتے۔وہ آزاد عورتیں ہوتی ہیں۔جو نہ تو کسی کی جنّت ہوتی ہے ،نہ عزت ہوتی ہے اور نہ ہی مان۔مغرب کی غیر مسّلم عورتیں بے پردہ عورتیں ہوتی ہیں جن کا اسلام سے کویئ لینا دینا نہیں ہوتا۔تو آپ خود فیصلہ کرے کہ ایسے معاشرے کی ایجاد کی ہوئی تحریک کیسے اور کیونکر ہمارے حق میں بہتر ہو سکتی ہے۔یاد رکھے کہ ہماری بات الگ ہے۔ہم اسلام کی شہزادیاں ہیں۔ہمیں یہ سب زیب نہیں دیتا۔اسلام نے ہمیں بہت بڑا اور اعلی مقام دیا ہے۔اس کو سمجھے، اس کی قدر کرے۔اگر آپ کو اس بارے میں یعنی اسلام میں اپنے حقوق کے بارے میں نہیں پتہ تو قرآن پاک کا مطالعہ کرے۔اسلامی کتابوں کی ورک گردانی کرے۔مذہبی سکالرز جو اسلام کی طرف آپ کی بہترین رہنمائی کر سکے ان سے سیشنز لیں اور جاننے کی کوشش کرے کہ اسلام میں عورت ہونے کی آخر کتنی فضیلت ہے اور کتنا اونچا مقام ہے اسلام میں عورت کا۔اپنے آپ کو اسلام کے رہنما اصولوں سے باخبر کرے اور جڑ جائے اپنے مذہب، اپنے دین اور اپنے اصل کے ساتھ جو کہ اسلام ہے تاکہ آپ پر آپ کا اصل مقام آشکار ہو جائے۔
میری پیاری بہنوں اسلام کی شہزادیوں!!نکل آۓ ان پروپیگندڈوں سے جو آپ کو تباہی کی طرف لے کر جارہے ہیں۔نکل آۓ ان مغربی ذہنیت کے حامل لوگوں کی پیروکاری سے جن کا مقصد آپ کو اسلام سے دور کر کے گمراہ کرنا ہے۔بتا دیں ان کالی بھیڑیوں کو کہ آخر ہم ہیں کون اور ہمارا مقام کیا ہے۔ دکھا دیں ان کو کہ اسلام کیسا مذہب ہے۔اس میں عورتوں کا مقام کیا ہے۔یقین کریں یہ جو آپ کو آپ ہی کے حقوق کے بارے میں گمراہ کررہے ہیں نا جب آپ ہی ان کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہو جائے گیں۔تو یہ سب اپنا سا منہ لیکر رہ جائے گے۔اپنے آپ کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرے تاکہ خود کو بھی ان گندگیوں سے محفوظ رکھ سکے اور اپنی آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت کر سکے۔تاکہ کل کو کویئ بھی ہمیں گمراہ کرنے میں کامیاب نا ہو سکے۔اٹھے جاگے کہ یہ جاگنے کا وقت ہے۔اگر مزید دیر کی تو خدا نا خواستہ کہی زیادہ ہی دیر نہ ہو جائے۔
تو آج وعدہ کرے خود سے کہ عورتوں کے حقوق کے نام پر عورتوں کو گمراہی کے راستوں پر لے جاکر ان کی عزتوں کو پامال کرکے ان سے بے حیائی کے کام کروانے والے گروہوں کی حمایت میں نہیں بلکہ ان کے خلاف آواز اٹھاۓ گے صرف چند لوگ نہیں بلکہ اس ملک و قوم کا ہر فرد ہر محب وطن پاکستانی اور سچا مسلمان وہ چاہے کسی بھی شعبے سے منسلک کیوں نہ ہو اپنی ہر ممکن کوشش کرے گا۔تاکہ ہمارا ملک ان گندی اور بیمار ذہنیت کے حامل لوگوں سے صاف ستھرا ہو جائے اور ہم اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطابق گزار کر اللّه تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمّد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کو راضی کر کے آخرت میں بھی اعلی مقام حاصل کر سکیں۔إنشاءاللّه
والسلام!!