Dailyhunt
"دنیا" انٹر نیٹ کے بغیر.

"دنیا" انٹر نیٹ کے بغیر.

سچ تو مگر کہنے دو!

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

9395381226

ایران نے یکم /اپریل کو بحرین میں ایمزون کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور متحدہ عرب امارات میں ایمزون ویب سرویسز پر حملہ کرکے انٹر نیٹ نظام کو درہم برہم کردیا۔ ان دو عرب ملکوں میں روز مرہ کی زندگی کچھ وقت کے لئے ہی سہی تھم کر رہ گئی۔ کیوں کہ انٹرنیٹ سرویس متاثر ہونے کی وجہ سے تقریبا ہر ایک ادارے کا کام رک سا گیا۔ ہاسپٹلس سے لے کر فضائی سرویس تک متاثر رہی۔ بینکنگ سسٹم تو کافی دنوں سے ناکارہ ہو چکا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق بحرین میں بعض ہاسپٹلس کو تجربہ کار اسٹاف نے مینول طریقہ اختیار کرتے ہوئے کام چلایا۔ ایران نے یہ دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ امریکہ کے وہ تمام اداروں کو نشانہ بنائے گا جس پر اس کا نظام قائم ہے۔ جس سے دنیا میں اس کی بالا دستی قائم ہے۔ اگلا نشانہ گوگل ہوگا اور اگر گوگل، میٹا پر حملہ ہو اور یہ متاثر ہو جائیں تو دنیا کی رفتار تھم جائے گی۔ کیوں کہ آج کی دنیا کا انٹرنیٹ کے بغیر کوئی تصور نہیں ہے۔ کوویڈ 19 میں اگرچہ کہ ساری دنیا سنسان اور ویران سی ہوگئی تھی مگر انٹرنیٹ کی بدولت سب کے حوصلے برقرار تھے کیوں کہ ساری دنیا سے ایک دوسرے کا رابطہ تھا۔ کوویڈ میں اگرچہ کہ ترقی یافتہ انسان کو قدیم دور میں جانا پڑا یعنی عصری وسائل، آرام، عیش و عشرت، مرغن غذائیں، سیر و تفریح سب کچھ چھوڑ کر یاتو اپنے گھروں تک رہ جانا پڑا تھا یا پھر جن کے پاس وسائل تھے انہوں نے دور دراز کے دیہی علاقوں اور شہر سے دور مضافاتی علاقوں میں فارم ہاؤسس میں دن گزارے۔ وہ دور بھی بڑا صبر آزما تھا۔ جب موت کا ڈر تھا مگر انٹر نیٹ کی بدولت واٹس ایپ، یوٹیوب اور دوسرے سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس نے ان میں جینے کی امنگ پیدا کی تھی۔ کوویڈ نے اگرچہ کہ ساری دنیا کے کاروبار کو تہس نہس کردیا مگر انٹر نیٹ کی بدولت آن لائن شاپنگ، آن لائن آڈرس کے رجحان کو عام کیا۔ اب اگر ایرانی حملے میں گوگل، میٹا، مائیکروسافٹ، ایپل جیسے ادارے تباہ ہوتے ہیں تو اس کا بڑا بھیانک اثر ہوگااور ابھی سے اس کے آثار نظر آرہے ہیں۔ ایران نے بحر احمر(ریڈ سی) آبنائے ہرمز کی تحوں میں موجود آپٹک فیبرک کیبلس کو منقطع کردینے کی دھمکی دی ہے۔ اگر وہ اس پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں 95 فیصد انٹر نیٹ نیٹ ورک معطل ہوجائے گی۔ یہ کیبلس عمان، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، عراق، پاکستان، ہندوستان اور سعودی عرب سے گزرتے ہیں۔

ہندوستان کو چھوڑ کر باقی تمام عرب ممالک ایران کے نشانے پر ہیں۔ کیوں کہ یہ سب امریکہ کے حلیف ہیں۔ ان ممالک میں امریکی اڈے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل ان اڈوں سے ایران پر حملے کرتا ہے۔ چونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان لگ بھگ 10 ہزار کیلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ اس کے پاس اتنے فاصلے تک نشانہ لگانے والے میزائلس نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے پڑوسی عرب ممالک میں واقع امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ابھی تک اس نے شہری آبادیوں پر حملے نہیں کئے بلکہ ان ہوٹلس، سفارتخانوں اور امریکی اداروں کو نشانہ بنایا ہے جس سے امریکہ کو زیادہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان ہوسکے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے سے عرب ممالک کے عام شہریوں کی زندگی متاثر ہوچکی ہے۔ معیشت ٹھپ ہوچکی ہے، سیاحت برائے نام رہ گئی ہے۔ دنیا کے محفوظ ترین ممالک اب ڈینجر ژون بن چکے ہیں۔

ایران کے سائبر حملے امریکہ کے ساتھ ساتھ یوروپی ممالک میں خوف دہشت پیدا کرچکے ہیں۔ اس وقت ایران لگتا ہے کہ آخری لڑائی لڑ رہا ہے۔ اسے اپنی تباہی کا یقین ہے مگر اپنے ساتھ وہ امریکہ اور اسرائیل کو تباہ کئے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ ابھی تک کے جو حالات ہیں وہ اس کا ثبوت ہیں کہ ایران کی کاروائیوں نے اسرائیل کو کھنڈر بنا دیا۔ نیتن یاہو بنکر میں دبک کر بیٹھا ہے۔صرف اس کی ویڈیو کلپس کو پیش کیا جارہا ہے۔ ابھی تک یقین سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آیا جس نیتن یاہو کو دکھایا جارہا ہے آیا وہ اصلی ہے یا آرٹی فیشل انٹلی جنس کا نتیجہ یا اس کا کوئی ہم شکل۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ تقریبا نیم پاگل ہوچکا ہے۔ گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ کی وہ بہترین مثال ہے۔ دنیا نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ خود کو سوپر پاور کہلانے والا چوہے سے زیادہ بز دل کمزور ہے۔ اس کی حیثیت آج ایک بین الاقوامی غنڈے جیسی ہے جو عرب ملکوں کو آپس میں لڑاکر ان کی سکیوریٹی کے نام پر معمول وصول کرنا چاہتا ہے۔ ویسے بھی ایپسٹین فائلز میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ٹرمپ امریکہ کی تاریخ کا سب سے گھٹیا،ذلیل انسان ہی نہیں بلکہ آدم خور بھی ہے۔ وہ کم سن لڑکیوں کی آبرو ریزی، ان کے قتل، معصوم بچوں کا گوشت کھانے کا مجرم بھی ہے۔ امریکہ میں اس کے خلاف 3 ہزار سے زائد احتجاجی ریالیاں منظم کی گئی۔ چونکہ یہ ایک بے غیرت اور ڈرپوک انسان ہے۔ اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے اس لئے گریز کر رہا ہے کہ جیسے ہی وہ کرسی سے اترے گا ہاتھ ہتکڑی اور جیل اس کا ٹھکانہ ہو جائے گا۔ دنیا کے بیشتر ممالک ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خلاف ہیں اور ایران سے نظریاتی اختلافات کے باوجود وہ اس کی ہمت کی داد دینے پر مجبور ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر پابندی نے بیشتر ممالک کی معیشت تباہ و تاراج کردیا۔ خود ہندوستان پر اس کے جو اثرات مرتب ہوئے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔ پٹرول، ڈیزل، گیس کی قلت نے عا م آدمی کو ایک بار پھر قطاروں میں لاکر کھڑا کردیا۔ ایک بار پھر ہندوستانی قوم بالخصوص قدرخوشحال اور درمیانی درجے کے طبقات کو تیس، پینتیس برس پہلے کے دور میں لوٹ کر جانا پڑا۔ گیس کے بجائے لکڑی یا پھر الیکٹرک کے چولہوں کو استعمال کرنا پڑا۔ اگرچہ کہ حکومت کی جانب سے باربار یہ دعوی کیا جاتا رہا ہے کہ پٹرول، ڈیزل اور گیس کی کوئی کمی نہیں اس کے باوجود مستقبل کے اندیشے اور جن کے پاس کسی قسم کا اسٹاک نہیں ہے وہ ہزاروں کی تعداد میں قطاروں میں نظر آتے ہیں۔ ایران اگر اپنے سائبر حملے جاری رکھے اور آپٹک فائیبر کیبلس کے علاوہ مختلف سافٹ ویئر کمپنیوں کو نشانہ بناتا ہے تو آنے والے وقت کا تصور بھی محال ہے۔

ایک اطلاع کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC)اور منسٹری آف انٹلی جنس (MOIS)سکیوریٹی کے 60 سے زائد گروپس ہیں جو مختلف طریقوں سے سائبر حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے مغربی دنیا کے آبی نظام کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔اسرائیل کے نالائق وزیر اعظم کی حماقتوں سے ایران جارحیت کے لئے مجبور ہے۔ اسرائیل نے حال ہی میں قانون منظور کیا جس کے تحت 11 ہزار فلسطینی قیدیوں کو اگلے 90 دنوں میں پھانسی کی سزا دی جائے گی۔ ایران نے بھی اعلان کیا ہے کہ جو اسرائیلی قیدی اس کے پاس یا لبنان وغیرہ میں ہے انہیں بھی سزائے موت دی جائے گی۔ ان تنازعات کے دوران فرانسیسی کمپنی Alcatel submarines network نے بحر احمر میں آپٹیک فائیبر نیٹ ورک کا کام روک دیا ہے اور اس نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس کا سمندری جہاز lle-de-bulz ہرمز میں محصور ہے۔ اس نے لگ بھگ 20 دن پہلے ہی ایرانی حملوں سے اپنے کسٹمرس کو خبر دار کردیا تھا۔ اس وقت دنیا اس بات پر غور کر رہی ہے کہ اگر وقتی طور پر ہی سہی ایرانی حملوں سے انٹرنیٹ سرویس متاثر ہوتی ہے تو کیا ہوگا؟ جی پی ایس کے بغیر دنیا اندھوں کی طرح بھٹکتی پھرے گی۔ کیونکہ جی پی ایس کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ معمولی بائیک سے لے کر فلائیٹس، میزائیل، شپس غرضیکہ زمینی، سمندری، فضائی، آمد و رفت متاثر ہوگی۔ بینکنگ سیکٹر ٹھپ ہوجائے گا۔ عرب ممالک میں اب بھی لگ بھگ ایک مہینے سے بینکوں میں آن لائن کاروبار بند ہے۔ ہیلتھ کیئر سیکٹر کا دار ومدار انٹرنیٹ پر ہے۔ ای میل کے عام ہونے کے بعد نہ تو فیکس، نہ ہی ٹیلی گرام اور نہ ہی پوسٹل سسٹم کا زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔ ای کامرس کا تو تصور ہی بیکار ہے۔ آن لائن شاپنگ پر منحصر ملٹی نیشنل سوپر مارکیٹس، ویئر ہاؤسس، بند ہو جائیں گے۔ یوٹیوب ہو یا واٹس ایپ یا ورچوئل میٹنگس (ژوم) سے جس طرح دنیا ایک عالمی گاؤں بن گئی تھی اب ایک بار پھر پہلے کی طرح اس کے درمیان فاصلے پیدا ہوں گے۔موبائلس نیٹ ورکس کام نہ کرے تو لینڈ لائن، ٹیلی فون کو بحال کرنا پڑے گا۔ جب موبائل نیٹ ورک کام نہ کرے تو آپ ہم خود کو بھی پہچاننے میں دشواری محسوس کریں گے کیوں کہ ہمارا موبائل ہماری مکمل کائنات ہے۔ ہمارا دماغ اس میں منتقل ہوچکا ہے۔ جب سے یہ آیا ہے ہماری یادداشت تقریبا ختم ہوچکی ہے۔ ہمارا موبائیل، ہمارا بینک بھی ہے اور ہمارا سارا ڈیٹا اسی میں محفوظ ہے۔

ہمارے اپنے دماغ میں اب کوئی چیز محفوظ نہیں ہے۔ اگر ایک طویل عرصے تک کے لئے انٹر نیٹ سرویس متاثر ہو تو ہم کو ایک بار پھر انتہاء سے ابتداء کی طرف بڑھنا پڑے گا۔ دنیا کی گہما گہمی رونقیں، زندگی کی رفتار بلا شبہ کم ہو جائے گی مگر انسانیت لوٹ آئے گی۔ انٹر نیٹ اور موبائل نے دنیا کے فاصلوں کو گھٹا دیا تھا مگر خود اپنے خاندان میں فاصلوں کو بڑھا دیا۔ ایک کمرے میں پانچ بھائی ہوں تو کوئی کسی سے بات نہیں کرتا بلکہ ہر ایک اپنے موبائل اسکرین میں گم رہتا ہے۔ کچھ عرصے کے لئے ہی سہی کم از کم ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہوگی، چھوٹے موٹے کاروبار کرنے والوں کو نئی زندگی ملے گی۔ کوویڈ اور جاریہ جنگی حالات سے کم از کم یہ سبق ضرور سیکھیں کہ ترقی کے پنکھ لگاکر آسمان چھونے کی کوشش ضرور کریں مگر اپنے قدموں کے نیچے سے زمین کھسکنے نہ پائیں۔ نئی ٹیکنالوجی کا استعمال ضرور کریں، وقت کی رفتار سے ہم قد م ضرور رہیں مگر جو قدیم روایات ہیں اسے ترک نہ کریں۔ ہم موبائل، کمپیوٹر سسٹم پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں جو کبھی بھی دغا دے سکتے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ہم اپنا دستی ریکارڈ Manual کا بھی استعمال کریں۔ جی پی ایس کے جو عادی ہے وہ اپنے ہی علاقے میں اجنبی جیسے ہیں۔ اس لئے اس کے بغیر ہی جینے کی عادت ڈالیں۔ ورنہ زندگی کا ہر لمحہ ایک صدی جیسا لگے گا۔

بجھتے ہوئے چراغ سے لیتے ہیں روشنی

بڑھتے ہیں ابتداء کی طرف انتہاء سے ہم

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Baseerat Online