Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
مغربی بنگال انتخابات کے دوران مسلمانوں کی جلائی گئی دکان کی نہیں بلکہ پرانی ہے یہ ویڈیو

مغربی بنگال انتخابات کے دوران مسلمانوں کی جلائی گئی دکان کی نہیں بلکہ پرانی ہے یہ ویڈیو

سوشل میڈیا پر 20 سیکنڈ کی ایک ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مغربی بنگال انتخابات 2026 کے دوران بی جے پی کے کار کنوں نے مسلمانوں کی دکانوں کو نذرآتش کردیا۔

ویڈیو کے ساتھ ایکس صارف نے لکھا ہے "بنگال الیکشن کے دوران بی جے پی کے دندناتے غنڈوں نے مسلمانوں کی دوکانیں جلا ڈالیں، مخالفوں کے کاروبار کو آگ لگا دی، قانون اپنا اپنا جج اپنا اپنا عمل درآمد اپنا اپنا"۔

Courtesy: X@jamshaidswati

الیکشن کمیشن آف انڈیا اور بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 294 میں سے 206 نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کر لی، جو ریاست کی سیاسی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔ ترنمول کانگریس کو تقریباً 80 نشستوں پر کامیابی ملی جبکہ وزیرِ اعلیٰ ممتا بینرجی بھی اپنی نشست ہار گئیں۔ انتخابی مہم کے دوران مذہبی و سیاسی بیانیے کے مؤثر استعمال نے نتائج پر اثر ڈالا۔

Fact Check/Verification

بنگال انتخابات کے دوران مسلمانوں کی دکانیں جلانے کے دعوے کے ساتھ وائرل ہورہی ویڈیو کی تصدیق کے لئے اس کے ایک فریم کو ہم نے گوگل لینس کے ذریعے تلاش کیا۔ اس عمل کے دوران اسی مقام کی مختلف زاویے سے فلمائی گئی ایک ویڈیو 4 مارچ 2026 کو اے بی پی آنندا کے آفیشل یوٹیوب چینل پر موجود رپورٹ میں ملی، جس میں وائرل ویڈیو میں دکھائی دینے والا بینر اور درخت بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو کے ساتھ دیے گئے عنوان کے مطابق یہ واقعہ مغربی بنگال کے مدھیم گرام اسٹیشن کے قریب پیش آنے والی ایک خوفناک آتشزدگی سے متعلق ہے، جہاں آگ بجھانے کے لئے فائر بریگیڈ کی 4 گاڑیاں موقع پر موجود تھیں۔ اس حوالے سے بنگلہ زبان میں آج تک بنگلہ، ای ٹی وی بھارت بنگلہ اور ٹی وی9 بنگلہ نے بھی خبریں شائع کی ہیں۔

 Courtesy: YouTube/ABP Ananda

آج تک بنگلہ کی رپورٹ کے مطابق یہ آتشزدگی کا واقعہ مدھیم گرام اسٹیشن اور بوائز ہائی اسکول کے درمیان واقع ایک ہوٹل میں سلینڈر پھٹنے کے باعث پیش آیا تھا۔ جبکہ دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اس حادثے میں ایک شخص جاں بحق ہوا اور مالی نقصان بھی ہوا۔ تاہم دستیاب رپورٹس میں کہیں بھی اس بات کا ذکر موجود نہیں تھا کہ یہ واقعہ مسلمانوں کی دکانوں کو نشانہ بنانے یا بی جے پی کارکنوں کی جانب سے آتشزدگی سے متعلق ہے۔

مزید تحقیق کے دوران یہی ویڈیو 5 مارچ 2026 کو جھوما رائے وسواس نامی خاتون کی انسٹاگرام پوسٹ پر بھی ملی۔ اس پوسٹ کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق یہ منظر مغربی بنگال کے مدھیم گرام میں ان کے ایک دوست کی دکان کے جل کر خاکستر ہونے کا ہے۔ مزید تصدیق اور تفصیلات کے لئے متعلقہ صارف سے انسٹاگرام کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جیسے ہی اضافی معلومات موصول ہوں گی، اس رپورٹ کو اپڈیٹ کر دیا جائے گا۔

 Courtesy: Instagram @royjuma1998

بھارتی الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لئے انتخابی شیڈول 15 مارچ 2026 کو جاری کیا تھا۔ ان انتخابات کے تحت پولنگ دو مرحلوں میں ہوئی، جو بالترتیب 23 اپریل اور 29 اپریل 2026 کو منعقد کی گئی تھی۔

: مغربی بنگال انتخابات 2026: سیکیورٹی فورسز کے ووٹروں پر لاٹھی چارج کرنے کا بتاکر شیئر کی گئی یہ ویڈیو بنگلہ دیش کی ہے

Conclusion

لہٰذا آن لائن دستیاب شواہد سے یہ واضح ہوا کہ مغربی بنگال انتخابات 2026 کے دوران مسلمانوں کی دکان جلائے جانے کے دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیو انتخابات سے پہلے کی ہے اور اس کا حالیہ انتخابی عمل سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ یہ ویڈیو مغربی بنگال کی ہی ہے لیکن سلینڈر بھٹنے کے باعث آگزنی کا واقعہ پیش آیا تھا، جسے سیاق و سباق سے ہٹا کر غلط طور پر انتخابی صورتحال سے جوڑ دیا گیا ہے۔

Our Sources
Video report published by ABP Ananda on 04 March 2026
Self Analysis
Instagram post by @royjuma1998 on 05 March 2026
Reports published by Aaj Tak Bengla, Tv9 Bengla, ETv Bharat Bengla and The Indian Express on March 2026

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Newschecker.in Urdu