سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے، جس میں ایک مرد اور خاتون کو آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ منظر مغربی بنگال میں ایک مسلمان خاتون پر بی جے پی کے کارکن کی جانب سے کئے گئے سرِعام تشدد کا ہے۔
Courtesy: Facebook/badshahh312Fact Check/Verification
ہم نے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کا بغور جائزہ لیا، جس میں انگریزی میں ”ٹیلی گرام نیوز” کا واٹر مارک نظر آیا۔ اس نام کو گوگل پر تلاش کرنے پر ہمیں اسی نام کا ایک فیس بک پیج ملا، جو بنگلہ دیش کے چٹگاؤں سے ہینڈل کیا جاتا ہے۔
مزید تحقیق کے دوران ہمیں یہی ویڈیو ٹیلی گرام نیوز کے فیس بک پیج پر 5 مئی 2026 کو شیئر شدہ ملی۔ ویڈیو کے ساتھ موجود بنگلہ کیپشن کا ترجمہ کرنے پر معلوم ہوا کہ دونوں افراد کے درمیان یہ جھگڑا چھیڑ خانی کے معاملے پر ہوا تھا۔ ساتھ ہی پوسٹ میں ‘کوکس بازار’ ہیش ٹیگ بھی درج تھا۔ لہٰذا ہماری تحقیق سے واضح ہوا کہ یہ ویڈیو بھارت نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی ہے۔
یہی ویڈیو 6 مئی 2026 کو بنگلہ دیشی صارف دیش لائیونیوز نامی فیس بک پیج پر ملی۔ جس کے مطابق یہ ویڈیو بنگلہ دیش کے چٹگاؤں کے کوکس بازار کی ہے۔
مزید تصدیق کے لئے ہم نے ”ٹیلی گرام نیوز” سے رابطہ کیا ہے۔ جواب موصول ہوتے ہی اس آرٹیکل کو اپڈیٹ کر دیا جائے گا۔
Conclusion
اس طرح آن لائن دستیاب شواہد سے یہ ثابت ہوا کہ مغربی بنگال میں ایک مسلمان خاتون پر بی جے پی کے کارکن کی جانب سے سرِعام تشدد کا بتاکر شیئر کی گئی ویڈیو مغربی بنگال کی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی ہے۔
Sources
Facebook post by Telegram News and Desh Live News on 05 May 2026
Self Analysis

