ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک لڑکی کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر شیئر کیا جا رہا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک مسلمان لڑکی کو ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے نوجوان پولس کی موجودگی میں اغوا کر لیا ہے۔
آرکائیو لنک یہاں اور یہاں دستیاب ہیں۔
: بھارتی ایئرپورٹ کی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی ہے یہ ویڈیو
Fact Check/Verification
ہم نے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کے ایک فریم کو ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں یہی ویڈیو صحافی پیوش رائے کے
اپنی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے گوگل پر ”مین پوری، رنکو شرما، پولس، کار میں زبردستی بٹھا کر لے گئے” جیسے کیورڈز تلاش کئے۔ اس دوران ہمیں مارچ 2026 میں شائع ہونے والی دینک بھاسکر، نیوز 18 اور یو پی تک کی رپورٹس ملیں۔ ان رپورٹس کے مطابق وائرل ویڈیو میں جس لڑکی کو لوگ کار میں زبردستی بٹھا کر لے جا رہے ہیں، وہ دراصل راجستھان کے بھیلواڑہ کی رہنے والی رنکو شرما ہے، جسے اس کے اہل خانہ گھر واپس لے جا رہے تھے۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ اتر پردیش کے مین پوری ضلع کے کُرّا تھانہ علاقے کے پائے گاؤں کے رہنے والا 25 سالہ رتک یادو راجستھان کے بھیلواڑہ میں ملازمت کرتا تھا، جہاں اس کی ملاقات 22 سالہ رنکو شرما سے ہوئی۔ بعد میں دونوں کے تعلقات کی اطلاع لڑکی کے اہل خانہ کو ہوئی، جس کے بعد انہوں نے رتک یادو کے خلاف بھیلواڑہ پولس میں شکایت درج کرائی تھی۔
دینک بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق بھیلواڑہ پولس نے مارچ میں رتک یادو کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی تھی اور بعد میں رنکو شرما سے دور رہنے کی ہدایت دے کر چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد رتک اپنے گاؤں مین پوری واپس آ گیا، جبکہ رنکو بھی اسے تلاش کرتے ہوئے وہاں پہنچ گئی۔ اطلاع ملنے پر رنکو کے اہل خانہ نے راجستھان پولس سے شکایت کی، جس کے بعد راجستھان اور مقامی پولس نے دونوں کو مین پوری کے کُرّا تھانے سے برآمد کیا۔
مزید تصدیق کے لئے ہم نے مین پوری کے کُرّا تھانہ کے ایس ایچ او سے فون پر رابطہ کیا اور وائرل ویڈیو کے ساتھ کئے گئے دعوے سے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے واضح طور پر بتایا کہ ویڈیو میں راجستھان کے برہمن خاندان سے تعلق رکھنے والی رنکو شرما کو ان کے اہل خانہ گھر واپس لے جا رہے ہیں۔ اس معاملے میں کسی بھی قسم کا کوئی مذہبی یا فرقہ وارانہ پہلو موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اس معاملے پر اے ایس پی سٹی کا بیان بھی
لہٰذا، دستیاب میڈیا رپورٹس میں اس واقعے کا کوئی مذہبی یا فرقہ وارانہ زاویہ سامنے نہیں آیا۔
Conclusion
ہماری تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ کیا گیا دعویٰ غلط ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والی لڑکی مسلمان نہیں ہے، اور اس واقعے کا کوئی فرقہ وارانہ زاویہ نہیں ہے۔
Our Sources
X post by on 09 March 2026
Reports published by Dainik Bhaskar, UP Tak and News18 on March 2026
X post by on 09 March 2026
Conversation With SO Kurra

