Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
کیا وائرل ویڈیو میں رندھیر جیسوال واقعی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت کر رہے ہیں؟ پوری حقیقت یہاں پڑھیں

کیا وائرل ویڈیو میں رندھیر جیسوال واقعی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت کر رہے ہیں؟ پوری حقیقت یہاں پڑھیں

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کی تقریباً 35 سیکنڈ پر مشتمل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بھارتی دفترِ خارجہ نے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) میں جاری مظاہروں کے حوالے سے کہا ہے کہ "بھارت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مکمل طور پر کھڑا ہے۔ مزید انہوں نے کشمیر میں 30 لاکھ ہندو پنڈت بسانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے"۔

Courtesy: Facebook/uzmaoshonasir

آرکائیو لنک یہاں اور یہاں دستیاب ہیں۔

Fact Check/Verification

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے منسوب وائرل بیان کی حقیقت جاننے کے لئے ہم نے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کے چند فریم گوگل لینس کی مدد سے تلاش کئے۔ اس دوران ہمیں 23 جون 2026 کو بھارتی وزارتِ خارجہ کے آفیشل یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کی گئی 21 منٹ 42 سیکنڈ دورانیے کی اصل ویڈیو ملی۔ ہم نے پوری ویڈیو کا بغور جائزہ لیا، تاہم اس میں کہیں بھی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت یا کشمیر میں ہندو پنڈتوں کو بسانے سے متعلق کوئی بیان نہیں ملا۔

البتہ 'اے این آئی کے رپورٹر ساحل خان کے سوال کے جواب میں، جو پاکستانی وزیرِ دفاع کی جانب سے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں جاری صورتحال کا ذمہ دار بھارت کو ٹھہرانے سے متعلق تھا'، رندھیر جیسوال نے تقریباً 3 منٹ 35 سیکنڈ پر ان تبصروں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے انہیں پاکستان کی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک مایوس کن کوشش قرار دیا۔

تاہم پوری لائیو اسٹریم کا جائزہ لینے کے دوران ہمیں کہیں بھی ایسا کوئی بیان نہیں ملا، جس میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کشمیری پنڈتوں کو کشمیر میں بسانے کے منصوبے یا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت کا ذکر کیا ہو۔

پھر ہم نے وائرل اور اصل ویڈیو کا موازنہ کیا۔ جائزے کے دوران وائرل ویڈیو میں موجود آواز اصل ویڈیو سے مختلف معلوم ہوئی، جس سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ ویڈیو کو ڈیجیٹلی ترمیم یا چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔

مزید تصدیق کے لئے ہم نے وائرل ویڈیو ٹرسٹڈ انفارمیشن الائنس (ٹی آئی اے) کے ڈیپ فیک اینالیسس یونٹ (ڈی اے یو)، جس میں نیوزچیکر بھی شامل ہے، کو بھیجا۔ یونٹ نے مختلف اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز کی مدد سے ویڈیو کی تحقیق کی۔ ڈی اے یو کی جانب سے ایک تفصیلی رپورٹ فراہم کی گئی، جو تین آزاد ماہرینِ مصنوعی ذہانت کے تجزیے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق وائرل ویڈیو کو اے آئی کی مدد سے ایڈٹ یا ترمیم کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں چہرے، خصوصاً منہ کے اردگرد دھندلا پن اور غیر فطری حرکات دیکھی جا سکتی ہیں، جبکہ آنکھوں اور چشمے کے قریب بھی غیر معمولی بصری نقائص واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ اس رپورٹ میں آڈیو کو 98.6 فیصد اعتماد کے ساتھ ڈیپ فیک قرار دیا گیا ہے۔

ڈی اے یو یونٹ نے اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز کے تجزیاتی نتائج بھی فراہم کئے۔ "اوریجن اے آئی" ٹول کے مطابق ویڈیو میں استعمال کی گئی آواز 82 فیصد امکان کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے، جبکہ "ہییا" نے بھی آڈیو کو مصنوعی طور پر تخلیق شدہ قرار دیا۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وائرل دعویٰ فرضی ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پی او کے میں جاری مظاہروں کے حوالے سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت یا کشمیر میں ہندو پنڈتوں کو بسانے سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ درحقیقت وائرل ویڈیو ان کی اصل ویڈیو میں ڈیجیٹلی ترمیم کرکے تیار کی گئی ہے۔

Our Sources
Video published by YouTube Channel Ministry of External Affairs, India on 23 Jun 2026
Self Analysis
DAU Analysis

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Newschecker.in Urdu