Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
سری گنگا نگر میں ملزمان کو سرِعام پھانسی دینے کی نہیں، بلکہ یہ ویڈیو یومِ عاشورہ کے ایک کرتب کی ہے

سری گنگا نگر میں ملزمان کو سرِعام پھانسی دینے کی نہیں، بلکہ یہ ویڈیو یومِ عاشورہ کے ایک کرتب کی ہے

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے، جس میں ایک کرین کے ذریعے سفید کفن نما کپڑوں میں لپٹی چار لاشیں یا انسانی ڈھانچے فضا میں لٹکے ہوئے نظر آ رہے ہیں، جن پر سرخ رنگ یا خون نما نشانات بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ پس منظر میں لوگوں کی بڑی تعداد، رہائشی مکانات اور صاف نیلا آسمان بھی نظر آ رہا ہے۔ صارفین اس ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں کہ یہ مناظر راجستھان کے سری گنگا نگر میں معصوم بچی سے مبینہ عصمت دری کرنے والے ملزمان کو سرِعام پھانسی دینے کے ہیں۔

Fact Check/Verification

ہم نے وائرل ویڈیو کے ایک فریم کو سب سے پہلے ریوس امیج سرچ کیا، اس دوران ہمیں 27 جون 2026 کو ایک انسٹاگرام پر اسی واقعے کی دوسرے اینگل سے فلمائی گئی ویڈیو ملی۔ جس کا عنوان "چندوس ضلع علی گڑھ" تھا۔ پھر ہم نے اس ویڈیو کا بغور تجزیہ کیا توکئی ایسے سراغ ملے، جس سے پتا چلا کہ اس ویڈیو کو علی گڑھ کے مین روڈ چندوس میں فلمایا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں پریم میڈیکل اسٹور کا بینر بھی نظر آیا۔

اس کے بعد ہم نے جیو لوکیشن کی مدد سے گوگل میپس پر "پریم میڈیکل اسٹور، چندوس مین روڈ، علی گڑھ" کے نام سے تلاش کیا۔ اس دوران ہمیں وہی عمارتیں اور دکانیں ملیں، جو وائرل ویڈیو میں بھی واضح طور پر نظر آ رہی ہیں۔ اس جیو لوکیشن سے تصدیق ہوئی کہ وائرل ویڈیو اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ کے قصبہ چندوس کی ہے، نہ کہ راجستھان کے سری گنگا نگر میں مبینہ عصمت دری کے ملزمان کو سرِعام پھانسی دینے کے واقعے کی۔

تحقیق کے دوران ہمیں علی گڑھ، اے آئی ایم آئی ایم کے ضلع صدر یامین خان عباسی نامی فیس بک پیج پر ایک پوسٹ ملی، جس میں 'ہند گرافکس اینڈ ایڈورٹائزنگ' کا ایک بینر نظر آیا، جس پر درج موبائل نمبر سے ہم نے رابطہ کیا۔ کال طاہر علی نامی شخص نے وصول کی اور بتایا کہ ہند گرافکس انہی کی ملکیت ہے۔

ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ علی گڑھ کے قصبہ چندوس سے واقف ہیں؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ وہ چندوس سے تقریباً دو کلومیٹر دور رام پور کے رہائشی ہیں۔ اس کے بعد ہم نے انہیں وائرل ویڈیو بھیج کر اس کی تصدیق چاہی۔ ویڈیو دیکھتے ہی طاہر نے بتایا کہ یہ یومِ عاشورہ کے موقع پر اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ کے قصبہ چندوس میں پیش کئے گئے ایک کرتب کی ویڈیو ہے۔

مزید تصدیق کے لئے طاہر نے ہماری بات چندوس محرم کمیٹی کے صدر شہنواز علی سے کانفرنس کال پر کروائی۔ شہنواز علی نے بھی تصدیق کی کہ وائرل ویڈیو چندوس ہی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یومِ عاشورہ کے موقع پر مختلف اکھاڑوں کی ٹیمیں روایتی کرتب پیش کرتی ہیں، جن میں ایک کرتب کے دوران چار افراد کو مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ کرین سے لٹکایا گیا تھا تاکہ لاشوں کا منظر پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرین سے لٹکائے گئے تمام افراد زندہ اور محفوظ تھے۔

شہنواز علی نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد آئندہ ایسے کرتب نہ دکھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کیونکہ اس طرح کے مناظر عوام میں خوف اور دہشت کا ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔

چندوس محرم کمیٹی کے صدر شہنواز علی نے مزید وائٹس ایپ میسجز کے ذریعے بتایا کہ وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے مبینہ "پھانسی کے منظر" میں عامر، الجان، ریحان اور شارون نامی چار نوجوان بطور فنکار شامل تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ محض یومِ عاشورہ کے موقع پر پیش کیا گیا ایک کرتب تھا۔ چاروں نوجوان مکمل طور پر صحت مند ہیں اور معمول کے مطابق اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کرتب پیش کرنے والے افراد کے جسم پر نظر آنے والا خون اصلی نہیں، بلکہ سرخ رنگ لگایا گیا تھا تاکہ منظر کو حقیقی دکھایا جا سکے۔

: کیا یہ ویڈیو واقعی سری گنگا نگر اجتماعی عصمت دری کیس کے ملزموں کو سرِعام باندھ کر پیٹنے کی ہے؟

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیق میں وائرل دعویٰ گمراہ کن ثابت ہوا۔ یہ ویڈیو راجستھان کے سری گنگا نگر میں معصوم بچی سے مبینہ عصمت دری کے ملزمان کو سرِعام پھانسی دینے کی نہیں، بلکہ اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ کے قصبہ چندوس میں یومِ عاشورہ کے موقع پر پیش کئے گئے ایک کرتب کی ہے۔

Our Sources
Instagram post by @sonu_0up81 on 27 Jun 2026
Google maps
Conversation with local residents
Conversation with Shahnawaz Ali, President of the Chandous Moharram Committee

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Newschecker.in Urdu