Claim
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے، جس میں فلائی اوور کے اوپر نیچے لوگوں کی جم غفیر اور بڑی تعداد میں بسیں قطار میں نظر آ رہی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو مظاہرے میں شامل ہونے جنتر منتر جانے والے لوگوں کی ہے، جس کی وجہ سے دہلی کی سرحد پر شدید ٹریفک جام لگ گیا۔
سی جے پی (کوکروچ جنتا پارٹی) کی قیادت میں جاری احتجاج کا آغاز 6 جون 2026 کو دہلی کے جنتر منتر سے ہوا تھا۔ یہ تحریک مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں، خاص طور پر نیٹ (نیشنل ایلجبیلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ) پیپر لیک کے خلاف شروع کی گئی، جس میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ احتجاج مسلسل جاری ہے اور 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کی اپیل کے بعد مختلف ریاستوں سے مظاہرین دہلی پہنچے۔ اس دوران مظاہرین پر پولس نے لاٹھیاں بھی خوب برسائی، جس کے باعث کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
Fact
ہم نے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کے ایک فریم کو ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں

مزید تحقیق کے دوران ہمیں یہی ویڈیو 28 مارچ 2020 کو ٹائمس آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں شائع شدہ ملی۔ جس کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران ہزاروں تارکینِ وطن مزدور، اتر پردیش، بہار اور مدھیہ پردیش جیسے اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی امید میں آنند وہار بس اڈے پر جمع ہوئے تھے۔ ریل خدمات معطل ہونے کے باعث بہت سے مزدور پیدل وہاں پہنچے اور تقریباً تین کلومیٹر طویل قطاروں میں کھڑے رہے۔ روزگار اور خوراک کی قلت کے باعث وہ دہلی چھوڑنے پر مجبور تھے۔

: سری گنگا نگر میں ملزمان کو سرِعام پھانسی دینے کی نہیں، بلکہ یہ ویڈیو یومِ عاشورہ کے ایک کرتب کی ہے
لہٰذا مذکورہ رپورٹ سے واضح ہوا کہ وائرل ویڈیو پرانی ہے اور اس کا حالیہ سی جے پی مظاہرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس حوالے سے دیگر میڈیا رپورٹس یہاں اور یہاں پڑھی جا سکتی ہیں۔
Our Sources
X post by on 28 March 2020
Reports publishd by Times of India, Live Mint and The Hindu on 28 March 2020

