Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
گائے اسمگلنگ کے الزام میں تین مسلم خواتین کے ساتھ مارپیٹ کی ویڈیو کا دعویٰ فرضی نکلا

گائے اسمگلنگ کے الزام میں تین مسلم خواتین کے ساتھ مارپیٹ کی ویڈیو کا دعویٰ فرضی نکلا

سوشل میڈیا پر خواتین کے ساتھ مارپیٹ کی ایک ویڈیو اس دعوے کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہے کہ اتر پردیش میں بجرنگ دل کے لوگوں نے گائے اسمگلنگ کے الزام میں تین مسلم خواتین کے ساتھ مارپیٹ کی۔

وائرل ویڈیو میں ایک خاتون کو ہجوم کی موجودگی میں تین دیگر خواتین کے ساتھ مارپیٹ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ہجوم میں موجود کچھ مرد بھی ان خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرتے نظر آ رہے ہیں۔

ویڈیو کے ساتھ صارف نے لکھا ہے "بھارت اتر پردیش میں 3 مسلمان خواتین پر بجرنگ دل کے ہندو غنڈے سرعام تشدد کررہے ہیں"۔

Courtesy: Facebook/saeedur.rahman

Fact Check/Verification

گائے اسمگلنگ کے الزام میں تین مسلم خواتین کے ساتھ مارپیٹ کئے جانے کے دعوے کے ساتھ وائرل ویڈیو کی تحقیق کے لئے ہم نے سب سے پہلے کیورڈ تلاش کیا۔ جہاں ہمیں ایک

اکاؤنٹ پر 4 اگست کو اپلوڈ کی گئی ایک ویڈیو ملی، جس میں وائرل ویڈیو سے ملتے جلتے مناظر موجود تھے۔

 Courtesy: X/AzamkhanMp022

پوسٹ کے کیپشن میں بتایا گیا ہے کہ اتر پردیش کے غازی آباد کے مودی نگر میں دیپا اور ان کی والدہ سُمن ایک گائے لے کر جا رہی تھیں۔ تبھی ہندو تنظیم سے وابستہ افراد نے گائے کو ذبح کرنے کے الزام میں انہیں روک لیا۔

کیپشن کے مطابق ماں بیٹی نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ بھی ہندو ہیں اور گائے کو پالنے کے لئے لے جا رہی ہیں، لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی اور دونوں کو سرِ راہ تھپڑوں سے مارا پیٹا۔ پولس نے ماں بیٹی کی پٹائی کے معاملے میں ہندو تنظیم سے وابستہ ملزمہ سپنا اگروال سمیت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

مزید کیورڈز سرچ کے دوران ہمیں وائرل ویڈیو سے متعلق 4 اگست کو دینک بھاسکر کی ویب سائٹ پر شائع ایک ویڈیو رپورٹ بھی ملی۔ دینک بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مودی نگر میں دہلی-میرٹھ روڈ پر سکھیڑا روڈ کے قریب پیش آیا تھا۔ چُنّا بھٹی کالونی کی رہائشی دیپا اور ان کی والدہ سُمن اپنے خاندان کی کفالت کے لئے مویشی پالتی ہیں اور وہ ایک گائے کو مودی نگر سے مراد نگر لے جا رہی تھیں۔

 Screengrab of Dainik bhaskar

اسی دوران ہندو رکشا دل کی بلاک صدر سپنا اگروال نے انہیں روک لیا۔ اس کے بعد سپنا اگروال نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ماں اور بیٹی کی پٹائی کی۔ اس معاملے میں پولس نے سپنا اگروال اور دو دیگر افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا ہے۔

جانچ کے دوران ہمیں 5 اگست 2026 کو دینک جاگرن کی ویب سائٹ پر شائع ایک رپورٹ ملی۔ جس کے مطابق مودی نگر کی نندن گری کالونی کی رہائشی دیپا اپنی والدہ سمن کے ساتھ پیر کی دیر شام ایک گائے کو لے کر مراد نگر جا رہی تھیں۔

 Screengrab of Dainik Jangran

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان کے پاس گاڑی کا کرایہ نہیں تھا، اس لئے وہ گائے کے ساتھ پیدل ہی مراد نگر کے لئے روانہ ہو گئیں۔ اسی دوران سکھیڑا روڈ کے قریب سپنا اگروال سمیت تین افراد نے انہیں روک لیا اور گائے کو ذبح کرنے کے لئے لے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے گالی گلوچ اور مارپیٹ کی۔

مزید رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب پولس کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو پولس موقع پر پہنچ گئی۔ پولس کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ گائے کو ذبح کرنے کے لئے لے جانے کا الزام مکمل طور پر غلط تھا۔ ماں بیٹی کافی عرصے سے مویشیوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ دیپا کی جانب سے سپنا اگروال اور دو نامعلوم افراد کے خلاف مودی نگر تھانے میں مقدمہ بھی درج کرایا گیا ہے۔

اپنی جانچ کو آگے بڑھاتے ہوئے ہماری ٹیم نے مودی نگر تھانے کے ایس ایچ او آنند پرکاش مشرا سے فون پر رابطہ کیا۔ انہوں نے وائرل دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ تینوں خواتین مسلم نہیں بلکہ ہندو ہیں۔

اس دوران ہم نے متاثرہ دیپا کشیپ سے بھی رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سپنا اگروال، اس کے شوہر اور چند دیگر افراد نے ان کے، ان کی والدہ اور ان کی ایک دوسری ساتھی کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔ انہوں نے بھی واضح کیا کہ تینوں خواتین کا تعلق ہندو طبقے سے ہی ہے۔

: کولمبیا میں آنے والے زلزلے کی نہیں فلپائن کی ہے یہ ویڈیو

Conclusion

اس طرح ہماری تحقیق سے معلوم ہوا کہ گائے اسمگلنگ کے الزام میں تین مسلم خواتین کے ساتھ مارپیٹ کئے جانے کا وائرل دعویٰ فرضی ہے۔ اس واقعے میں شامل تینوں متاثرہ خواتین ہندو ہیں۔

Our Sources
X post on 4th Aug 2026
Article Published by Dainik Bhaskar on 4th Aug 2026
Article Published by Dainik Jagran on 5th Aug 2026
Telephonic Conversation with Modinagar SHO and Victim Deepa Kashyap

(اس آرٹیکل کو ہندی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے، جسے رنجے کمار نے لکھا ہے)

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Newschecker.in Urdu