سوشل میڈیا پر نیپال میں سیلاب کے باعث ہونے والی تباہی کا بتا کر ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے۔ جس میں سیلابی ریلا بھری آبادی کو تباہ کرتے نظر آرہا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ مناظر حالیہ نیپال میں سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی کا ہے۔
ویڈیو کے ساتھ ایکس صارف نے لکھا ہے “نیپال، شاید ہی کوئی زندہ بچا ہو، چند سیکنڈ میں کئی افراد مارے گئے”۔
Courtesy: X@SaminaHMalikنیپال اور چین کے سرحدی علاقے میں خوفناک سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ متعدد لاپتہ ہیں۔ تباہ شدہ علاقوں میں ریسکیو اور راحت رساں ٹیمیں امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔ اسی تناظر میں مذکورہ ویڈیو نیپال سیلاب سے منسوب کرکے شیئر کی جا رہی ہے۔
Fact Check/Verification
نیپال میں سیلاب کے باعث ہونے والی تباہی کا بتا کر شیئر کی جانے والی ویڈیو ایک فریم کو گوگل ین ڈیکس ٹول کی مدد سے تلاش کیا۔ اس دوران ہمیں ہوبہو ویڈیو 5 اگست 2025 کو ہم بس ایچ پی نامی انسٹاگرام پیج پر موصول ہوئی۔ جس میں اس ویڈیو کو اتراکھنڈ کے اتراکاشی میں بادل پھٹنے کے باعث ہوئی شدید تباہی کا بتایا گیا ہے۔
Courtesy: Instagram @himbus.hpمزید کیورڈز سرچ کے دوران ہمیں یہی ویڈیو 5 اگست 2025 کو شائع ہونے والی انڈیا ٹوڈے کی ویب سائٹ اور این ڈی ٹی وی کے آفیشل یوٹیوب چینل پر ملیں۔ ان رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو اتراکھنڈ کے ضلع اترکاشی کے گاؤں تھرالی میں بادل پھٹنے سے شدید تباہی کی ہے۔
بادل پھٹنے کا واقعہ ایک گھنٹے میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش کی صورت میں رونما ہوا تھا، جس کی بنیادی وجوہات میں ہمالیائی خطے کی جغرافیائی حساسیت کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیاں، بے لگام تعمیرات اور جنگلات کی کٹائی شامل ہیں، جو ندی نالوں کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کر کے فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کو بڑھا رہی ہیں۔ اس دردناک حادثے میں کئی افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد لاپتہ ہو گئے تھے۔
Courtesy: India TodayConclusion
نیوز چیکر کو ملے شواہد سے یہ ثابت ہوا کہ وائرل ہونے والی ویڈیو نیپال میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کی نہیں بلکہ بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے ضلع اترکاشی کے گاؤں تھرالی میں بادل پھٹنے سے ہونے والی تباہی کی ہے۔
Our Sources
Instagram post by @himbus.hp on 05 Aug 2025
Reports published by India Today and NDTV on 05 Aug 2025

