Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
کیا برکس سمٹ 2026 میں وزارت خارجہ کے ترجمان سے وائرل اسنیکنگ ویڈیو سے متعلق سوال کیا گیا؟ نہیں، ویڈیو اے آئی سے تیار کردہ ہے

کیا برکس سمٹ 2026 میں وزارت خارجہ کے ترجمان سے وائرل اسنیکنگ ویڈیو سے متعلق سوال کیا گیا؟ نہیں، ویڈیو اے آئی سے تیار کردہ ہے

Claim

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک صحافی کو وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے برکس سمٹ 2026 کے دوران اسنیکس کھانے کی وائرل ویڈیو کے سلسلے میں سوال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں جیسوال مبینہ طور پر جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ "اسنیکس کمرے میں موجود سب سے بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ کچھ لوگ میرے اسنیک میں اس سے زیادہ دلچسپی لے رہے تھے جتنی ان حقائق میں جو میں شیئر کر رہا تھا"۔

Fact

ہم نے گوگل پر "رندھیر جیسوال"، "میڈیا سوال"، "اسنیکس" اور "برکس" جیسے کیورڈ تلاش کئے، تاہم ہمیں ایسی کوئی معتبر رپورٹ نہیں ملی، جس سے یہ تصدیق ہوتی ہو کہ حالیہ پریس بریفنگ کے دوران کسی صحافی نے وزارت خارجہ کے ترجمان سے ایسا سوال کیا تھا۔

: کیا وائرل ویڈیو میں رندھیر جیسوال واقعی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت کر رہے ہیں؟

اس کے بعد ہم نے وائرل ویڈیو کے ایک فریم کو ریورس سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں وزارت خارجہ کے سرکاری یوٹیوب چینل پر 15 ستمبر 2026 کو اپلوڈ کی گئی رندھیر جیسوال کی دو ہفتہ وار پریس بریفنگ کی ویڈیو ملی۔ اصل ویڈیو میں جیسوال وہی لباس پہنے نظر آرہے ہیں جو وائرل کلپ میں دکھائی دے رہا ہے۔

 Screengrab from YouTube video by MEA

ہم نے پوری پریس بریفنگ کا جائزہ لیا، تاہم اس میں نہ تو ایسا کوئی سوال ملا اور نہ ہی اسنیکس کا کوئی ذکر موجود تھا، جیسا کہ وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب اس بریفنگ کے ٹرانسکرپٹ میں بھی اس طرح کے کسی سوال و جواب کا ذکر نہیں ہے۔

وائرل ویڈیو کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر ہمیں جیسوال کے منہ کے قریب موجود مائیکروفون بعض فریمز میں ان کے منہ کے ساتھ مدغم نظر آیا۔ ان کے منہ کے حصے میں بھی دھندلاپن اور غیر معمولی مسخ دکھائی دیا۔ اسی طرح پس منظر کے بعض حصوں میں بھی دھندلاپن اور مسخ دیکھنے کو ملا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویڈیو میں ممکنہ طور پر تبدیلی کی گئی ہے۔

ہم نے ویڈیو کی آواز کا مزید تجزیہ ہی یا ڈیپ فیک وائس ڈیٹیکٹر کی مدد سے کیا، جس نے اسے ممکنہ طور پر ڈیپ فیک قرار دیا۔ ریزیمبل اے آئی ٹول نے اپنے تجزیے میں بھی آواز کو جعلی قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ کی

نے بھی اس ویڈیو کو فرضی قرار دیا ہے۔

اس طرح ہماری تحقیق سے واضح ہوا کہ وائرل ویڈیو میں تبدیلی کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے پریس بریفنگ کے دوران ان کی وائرل 'اسنیکنگ' ویڈیو کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ 15 ستمبر کی اصل پریس بریفنگ اور اس کے ٹرانسکرپٹ میں ایسے کسی سوال و جواب کا ذکر نہیں ہے، جبکہ اے آئی پر مبنی آڈیو تجزیے میں بھی وائرل ویڈیو کی مبینہ آواز کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔

Sources
YouTube Video By MEA, Dated September 15, 2026
Release ByMEA, Dated September 15, 2026
Hiya Deepfake Voice Detector
Resemble AI
X Post By , Dated September 16, 2026

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Newschecker.in Urdu