سوشل میڈیا پر اس ہفتے سی جے پی (کاکروچ پارٹی) کے احتجاج سے جوڑ کر کئی ویڈیوز مختلف دعوؤں کے ساتھ شیئر کی گئیں، جن میں دہلی کی سرحد پر مبینہ ٹریفک جام، عمارت میں آتش زدگی، پولس کی جانب سے قومی پرچم (ترنگے) کی مبینہ بے حرمتی اور جموں و کشمیر میں فوج و پولس کی مشترکہ چیک پوسٹ پر حملے کی ویڈیوز شامل ہیں۔ نیوز چیکر کی پڑتال میں معلوم ہوا کہ یہ تمام ویڈیوز پرانی یا غیر متعلقہ واقعات کی ہیں، جنہیں گمراہ کن دعوؤں کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ ان تمام دعوؤں پر مختصر فیکٹ چیک درج ذیل ہیں۔
کیا یہ ویڈیو جنتر منتر جانے والے مظاہرین کی وجہ سے دہلی سرحد پر لگنے والے ٹریفک جام کی ہے؟
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا کہ یہ جنتر منتر میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کے لئے جانے والے لوگوں کی ہے، جس کے باعث دہلی کی سرحد پر شدید ٹریفک جام لگ گیا۔ تاہم، نیوز چیکر کی پڑتال میں معلوم ہوا کہ وائرل دعویٰ درست نہیں ہے۔ یہ ویڈیو کورونا وائرس کے دوران ملک گیر لاک ڈاؤن کے باعث دہلی کے آنند وہار بس اڈے پر جمع ہونے والے ہزاروں تارکینِ وطن کی ہے۔ مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

کیا عمارت میں لگی آگ کی یہ ویڈیو واقعی سی جے پی مظاہرے کی ہے؟
وائرل ویڈیو کو سی جے پی مظاہرے سے جوڑتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ اس میں نظر آنے والی عمارت میں آگ اسی احتجاج کے دوران لگی۔ تاہم نیوز چیکر کی پڑتال میں معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ دراصل، ویڈیو اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں واقع جواہر بھون میں پیش آنے والے آتش زدگی کے واقعے کی ہے، جس کا سی جے پی مظاہرے سے کوئی تعلق نہیں۔ مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

کیا یہ ویڈیو کاکروچ پارٹی کے احتجاج کے دوران ترنگے کی مبینہ بے حرمتی کی ہے؟
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا کہ یہ کاکروچ پارٹی کے احتجاج کے دوران پولس کی جانب سے قومی پرچم (ترنگے) کی مبینہ بے حرمتی کی ہے۔ لیکن نیوز چیکر کی پڑتال میں معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ دراصل وائرل ویڈیو بہار پولس سے متعلق ایک پرانے واقعے کی ہے۔ پورا فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

کیا وائرل ویڈیو کا تعلق جموں و کشمیر میں فوجی چیک پوسٹ پر حملے سے ہے؟
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا کہ یہ طلبہ تحریک سے توجہ ہٹانے کے لئے جموں و کشمیر میں فوج اور پولس کی مشترکہ چیک پوسٹ پر حملے کی ہے۔ نیوز چیکر کی پڑتال سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ دراصل وائرل ویڈیو جموں و کشمیر کے ضلع کُلگام کے میر بازار میں واقع ایک اسکریپ (کباڑ) یارڈ میں لگنے والی آگ کی ہے۔ پوری حقیقت یہاں پڑھیں۔

کیا وائرل ویڈیو میں پی ایم مودی نواز شریف سے کاکروچ پارٹی کے خلاف مدد مانگ رہے ہیں؟
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ویڈیو کال پر پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف سے کاکروچ پارٹی کے خلاف مدد مانگی۔ لیکن نیوز چیکر کی پڑتال میں معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ بے بنیاد ہے۔ دراصل وائرل ویڈیو وزیرِ اعظم مودی کے اس بیان کی ہے جس میں وہ پیپر لیک کے خلاف سخت اقدامات اور امتحانی نظام میں شفافیت سے متعلق بات کر رہے تھے۔ مکمل فیکٹ جیک یہاں پڑھیں۔

