سوشل میڈیا پر اس ہفتے ایران، اسرائیل، فلپائن اور بھارت سے متعلق کئی ویڈیوز اور تصاویر مختلف گمراہ کن دعوؤں کے ساتھ شیئر کی گئیں۔ ان میں تل ابیب پر مبینہ ایرانی حملے کے مناظر، فلپائن زلزلے سے منسوب تباہی کے مناظر، راج ناتھ سنگھ سے منسوب جعلی اپیل اور ایک خاتون کی غلط شناخت پر مبنی ویڈیو شامل تھی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ متعدد ویڈیوز پرانے یا غیر متعلقہ واقعات کی تھیں، جبکہ بعض دعوے جعلی پوسٹس اور غلط شناخت پر مبنی تھے۔ ان سبھی موضوعات پر مختصر فیکٹ چیک درج ذیل میں ملاحظہ کریں۔
کیا وائرل ویڈیو واقعی فلپائن میں زلزلے کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارتوں کی ہے؟
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کو فلپائن میں آنے والے حالیہ زلزلے کے نتیجے میں عمارتوں کی تباہی کا منظر بتا کر شیئر کیا گیا۔ تاہم تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ زیرِ گردش ویڈیو فلپائن کی نہیں بلکہ بینکاک کی ہے، جہاں شدید زلزلے کے باعث دو عمارتوں کو آپس میں جوڑنے والا پل نما حصہ منہدم ہو گیا تھا۔ مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

کیا وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مساجد اور مندروں کے عطیات پی ایم کیئرز فنڈ میں جمع کرانے کی اپیل کی ہے؟
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کارڈ اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا کہ وزیر دفاعہ راج ناتھ سنگھ نے مساجد اور مندروں کے عطیات پی ایم کیئرز فنڈ میں منتقل کرنے کی اپیل کی ہے۔ لیکن ہماری تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ وائرل پوسٹ کارڈ جعلی ہے اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے ایسا کوئی بیان یا اپیل نہیں کی گئی ہے۔ یہاں پورا فیکٹ چیک پڑھیں۔

کیا اسپتال کے عملے کو ڈانٹ رہی خاتون بھارت کی وزیرِ صحت ہیں؟
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اس دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون بھارت کی وزیرِ صحت ہیں، جو ایک خاتون مریضہ کو مرد ڈاکٹر کے ساتھ اکیلا چھوڑنے پر اسپتال کے عملے کو ڈانٹ رہی ہیں۔ تاہم تحقیق سے معلوم ہوا کہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون وزیرِ صحت نہیں بلکہ ہریانہ ویمن کمیشن کی سابق چیئرپرسن رینو بھاٹیا ہیں۔ پورا فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

کیا یہ منظر تل ابیب میں توانائی کی تنصیبات پر ایران کے حالیہ حملے کا ہے؟
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا کہ یہ تل ابیب میں توانائی کی تنصیبات پر ایران کے حالیہ حملے کے مناظر ہیں۔ لیکن ہماری تحقیق میں دعویٰ بےبنیاد ثابت ہوا۔ وائرل کلپ حالیہ ایران-اسرائیل کشیدگی سے متعلق نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کے شہر عجمان میں واقع ایک سپر مارکیٹ میں لگنے والی آگ کی پرانی ویڈیو ہے۔ یہاں مکمل فیکٹ چیک پڑھیں۔

کیا یہ ویڈیو ایران کے اسرائیل پر حالیہ میزائل حملے کی ہے؟
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا کہ یہ بیروت پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر کئے گئے حالیہ میزائل حملے کے مناظر ہیں۔ ہماری تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ زیرِ گردش ویڈیو دراصل یکم مارچ 2026 کو اسرائیل کے شہر یروشلم میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کی ہے اور اس کا بیروت پر اسرائیلی حملوں کے بعد ہونے والی مبینہ جوابی کاروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پورا فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

